انوکھی تخلیق: شمسی نظام، یعنی سولار سسٹم، اور اس کے اندر استثنائی نوعیت کا سیارۂ زمین، یعنی پلانٹ ارتھ، ایک انوکھی تخلیق ہے۔ یہاں انسان کے لیے اس کی ضرورت کی تمام چیزیں اعلیٰ معیار کے ساتھ موجود ہیں، لیکن اسی کے ساتھ یہاں ایک اور چیز بھی ہے جس کو قرآن میں کبد سورہ نمبر 90 آیت 5 کہا گیا ہے۔ یعنی یہاں اگرچہ انسان کے لیے ہر قسم کی سہولتیں موجود ہیں، لیکن اسی کے ساتھ یہاں انسانی زندگی کے ہمراہ مشقت، یعنی ڈسٹریس، شامل کر دی گئی ہے۔ انسان کچھ بھی کرے، لیکن وہ اپنی زندگی کو کسی بھی حال میں درد و کرب سے بچا نہیں سکتا۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہلِ جنت جب جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں کے ماحول کا تجربہ کریں گے، تو ان کی زبان سے نکلے گا: الحمد لله الذي أذهب عن الحزن سورہ نمبر 35 آیت 34۔ یعنی اس اللہ کا شکر ہے جس نے خوف و حزن کو ہم سے دور کر دیا۔ Praise be to God, who has taken away all sorrow from us. اہلِ جنت کا یہ کلمہ دراصل دریافت کا ایک کلمہ ہوگا۔
وہ جنت کی صورت میں ایک نئے اور انوکھے تخلیق، وہ جنت کی صورت میں ایک نئے اور انوکھے تخلیقی کرشمے کی دریافت کریں گے۔ یعنی یہ دریافت کہ جو خالق کبد والی دنیا کی تخلیق کر سکتا تھا، وہ اس طاقت کا بھی حامل تھا کہ ایک اور دنیا کی تخلیق کرے جہاں خوف اور حزن کی کوئی صورت نہ پائی جائے۔ ایسی ایک جنت بنانے کے لیے ایک اور دنیا تخلیق کرنے کی ضرورت تھی، اور خدا نے جنت کی صورت میں اس نئی دنیا کی تخلیق کر دی۔ اہلِ جنت جب ایسی انوکھی دنیا کو پائیں گے تو کمالِ استعجاب سے وہ کلمہ ان کی زبان پر جاری ہو جائے گا، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: وقالوا الحمد لله الذي أذهب عن الحزن خوف و حزن، خوف و حزن سے خالی دنیا کی تخلیق ایک ایسا انوکھا واقعہ ہے جس کو ظہور میں لانا قادرِ مطلق خدا کے سوا کسی اور کے لیے ممکن نہیں۔
کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 487۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.