جنت یا جہانِ لذّت؟ قرآن کی سورہ ابراہیم میں دنیا کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَآتَيكُم مِّنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ سورہ نمبر 14، آیت 34۔ اس کے مقابلے میں جنت کے بارے میں قرآن کی سورہ نمبر 58 میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ سورہ نمبر 41، آیت 31۔ ان دونوں آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو تمام چیزیں بقدرِ ضرورت دی گئی ہیں؛ اس کے مقابلے میں جنت میں انسانوں کو تمام چیزیں بقدرِ خواہش دی جائیں گی۔
انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک لذّت طلب حیوان، یعنی pleasure-seeking animal ہے۔ لذّت ایک انوکھی صفت ہے جو صرف انسان کے اندر پائی جاتی ہے۔ انسان کے اندر ہر قسم کی لذّتوں کی بے پناہ طلب موجود ہے، لیکن موجودہ دنیا میں کسی بھی عورت یا مرد کی خواہشیں پوری نہیں ہوتیں۔ ہر ایک کے ساتھ یہ ہوتا ہے کہ وہ کامل فُلفِلمنٹ کے حصول کے بغیر مر کر اس دنیا سے چلا جاتا ہے، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، خواہ وہ عالم ہو یا جاہل، خواہ وہ عام انسان ہو یا کوئی بادشاہ۔
انسان کی لذّتوں کی فہرست بہت لمبی ہے: لذّتِ فکر، لذّتِ بصارت، لذّتِ سماعت، لذّتِ ذائقہ، لذّتِ لمس، لذّتِ گفتگو، لذّتِ رفاقت، لذّتِ مطالعہ، لذّتِ دریافت، لذّتِ مسرت وغیرہ۔ ان تمام لذّتوں کی طلب انسان کے اندر بے پناہ حد تک موجود ہے، لیکن موجودہ دنیا میں انسان اپنی ان لذّتوں کی تکمیل نہیں کر پاتا۔ وہ اسی کی تلاش میں رہتا ہے، مگر بہت جلد اس کو موت آ جاتی ہے۔ موجودہ دنیا میں اس کو احساسِ لذّت کا تجربہ تو ہوتا ہے، لیکن تکمیلِ لذّت کا تجربہ اس کو حاصل نہیں ہوتا۔
ایک ملحد فلسفی نے جنت کو "خوش خیالی" قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جنت انسانی تمناؤں کی خوبصورت تخیل، یعنی beautiful idealization of human wishes، ہے۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ جنت انسان کی خوبصورت تمناؤں کا پوری طرح وقوع میں آنا، یعنی beautiful actualization of human wishes ہے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 451۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.