Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Jannat ka istehqaaq.

Urdu · 4 min

جنت کا استحقاق قرآن کی سورہ ابراہیم میں ارشاد ہوا ہے: لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ سورہ نمبر 14، آیت 7۔ یعنی اگر تم دنیا میں اللہ کے عطیات پر شکر کرو گے تو تم کو آخرت میں خدا کے عطیات دیے جائیں گے۔ حقیقی شکر سب سے بڑا عمل ہے۔ شکر تمام عبادات کا خلاصہ ہے۔

جو آدمی دنیا کی زندگی میں حقیقی معنوں میں شکر گزاری کا ثبوت دے، وہ آخرت میں دوبارہ خدا کی نعمتوں سے سرفراز کیا جائے گا۔ حقیقی شکر کسی آدمی کو جنت کا مستحق بناتا ہے۔ جنت میں صرف اعلیٰ روحیں داخل کی جائیں گی، اور اعلیٰ روح وہ ہے جو حمد اور شکر کی کیفیات سے بنی ہو۔ اس اعلیٰ روح کو جنت کے ابدی باغوں میں بسایا جائے گا۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت والے جب جنت میں داخل کر دیے جائیں گے تو وہ کہیں گے: الحمد لله الذي أذهب عنّا الحزن سورہ نمبر 35، آیت 34۔ یعنی اللہ کا شکر ہے جس نے حزن کو ہم سے دور کر دیا۔ دنیا کی زندگی میں ہر آدمی کا ایک لمحہ حزن یا زمانہ حزن ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ اس حزن یعنی سواروں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔

جو آدمی اپنے اس زمانہ حزن کو اور پھر زمانہ فرحت کو دریافت کرے، اور پھر وہ یہ کہہ اٹھے کہ خدایا تو نے دنیا میں میرے حزن کو دور کر دیا، اسی طرح تو آخرت میں میرے حزن کو دور کر دے۔ جو آدمی سچے احساس کے ساتھ یہ بات کہے، تو یہ بات اس کے لیے ان شاء اللہ جنت میں داخلے کا ٹکٹ بن جائے گی۔ دنیا کی نعمتوں کا اعتراف اس کو آخرت کی نعمتوں کا مستحق بنا دے گا۔ اس قسم کا قول کوئی سادہ قول نہیں۔

اس کے لیے گہری شعوری بیداری درکار ہے۔ جو آدمی اپنے اندر اس قسم کی شعوری بیداری پیدا کرے، اسی کے دل سے اس قسم کے کلمات نکلتے ہیں جو اس کے لیے جنت میں داخلے کا استحقاق بن جائیں۔ گہری شعوری بیداری کے بغیر کسی شخص کو یہ توفیق ملنے والی نہیں۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 450۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.