Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Tabaarakallah.

Urdu · 4 min

تبارک اللہ۔ تبارک کا لفظی مطلب ہے "بہت زیادہ برکت والا"۔ یہ لفظ قرآن میں 9 بار آیا ہے۔ یہ لفظ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

وهي كلمة لم تُستعمل إلا لله وحده. تبارک کا لفظ "برک" سے مشتق ہے، یہ تفاعل کے وزن پر "برک" کا مبالغہ ہے۔ برک کے معنی حضرت عبداللہ ابن عباس نے ان الفاظ میں بیان کیے ہیں: "الكثرة في كل خير"، لسان العرب، جلد 10، صفحہ 396۔ یعنی ہر قسم کے خیر کی کثرت۔

تبارک کا مطلب ہے ہر پہلو سے اور ہر چیز میں کمالِ خیر کا حامل ہونا۔ مثلاً قرآن میں ہے: "فتبارک الله أحسن الخالقين"، سورہ نمبر 23 آیت 14۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی تخلیق ہر پہلو سے کامل ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی دنیا میں ہر چیز اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔

اس دنیا کا تخلیقی منصوبہ اتنا زیادہ اعلیٰ ہے کہ اس میں کوئی تضاد نہیں۔ اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں۔ کسی پہلو سے اس میں ادنیٰ درجے میں کوئی نقص، یعنی ڈیفیکٹ، موجود نہیں۔ انسان کو جو جسم دیا گیا ہے، وہ ہر اعتبار سے ایک بہترین جسم ہے۔

اس دنیا میں جو لائف سپورٹ سسٹم پایا جاتا ہے، وہ انسان کی تمام ضرورتوں کو آخری حد تک پورا کرنے والا ہے۔ سولر سسٹم اور کہکشاؤں کا نظام اپنی ساری وسعتوں کے باوجود پوری طرح خالی از نقص، یعنی زیرو ڈیفیکٹ، صفات کا حامل ہے۔ نباتات، جمادات اور حیوانات کی وسیع دنیا اپنے تمام تنوعات کے باوجود ہر پہلو سے کمالِ خیر کے نمونے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ اپنی ذات میں خیرِ کامل ہے۔

اسی سے خیر و برکت کا تمام فیضان لوگوں تک پہنچتا ہے۔ یہ سب انسان کے لیے ایک عظیم رحمت، یعنی بلیسنگ ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ انسان ان کو دیکھ کر خدا کی بے پایاں عظمت و قدرت کا تعارف حاصل کرے۔ وہ خدا سے سب سے زیادہ محبت کرنے لگے، اور خدا کے بارے میں اس کے اندر خشیت کے اعلیٰ جذبات پیدا ہوں۔

یہی ایمان ہے۔ اور خدا کی پیدا کی ہوئی دنیا اسی ایمان کی کائناتی تربیت گاہ ہے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 437۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.