Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Khuda ka tajriba.

Urdu · 4 min

خدا کا تجربہ۔ صحیح مسلم میں ایک حدیث نقل ہوئی ہے، اس حدیث کا ایک حصہ یہ ہے: إن الله عز وجل يقول يوم القيامة: "يا ابن آدم، مرضت فلم تعدني" قال: "یا رب، کیف أعبدك وأنت رب العالمين؟ " قال: "ما علمت أن عبدي فلانا مرض فلم تعده أما علمت أنك لو عدته لوجدتني عنده" صحیح مسلم، رقم الحدیث 6721۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کہے گا: "اے ابن آدم، میں بیمار ہوا مگر تم نے میری عیادت نہ کی" بندہ کہے گا کہ "اے میرے رب، میں کس طرح تیری عیادت کرتا جبکہ تو سارے عالم کا رب ہے" اللہ تعالیٰ کہے گا: "کیا تم نے نہیں جانا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا مگر تم نے اس کی عیادت نہ کی؟

کیا تم نے نہیں جانا کہ تم اگر اس کی عیادت کرتے تو یقینا تم مجھ کو اس کے پاس پاتے" اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی آدمی خالص رضائے الہی کے لیے ایک کام کرتا ہے تو کام کے درمیان اس پر ایسی کیفیات گزرتی ہیں جبکہ وہ لقاء رب کا تجربہ کرتا ہے۔ اس وقت اس کا یہ حال ہوتا ہے گویا کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔ مریض کی ایک عیادت وہ ہے جس میں رضائے الہی کا جذبہ شامل نہ ہو۔ جس کو آدمی نمائش کے لیے یا کسی فائدے کے لیے کرے۔

ایسی عیادت صرف دنیاوی مقصد کے لیے ہوتی ہے۔ وہ آدمی کے اندر ربانی کیفیات پیدا نہیں کرتی۔ دوسری عیادت وہ ہے جبکہ خدا کا ایک بندہ کسی انسان کی بیماری کو سن کر تڑپ اٹھتا ہے۔ اس کو خدا کا یہ حکم یاد آتا ہے کہ "تم دوسرے انسانوں پر رحم کرو، میں قیامت کے دن تمہارے اوپر رحم کروں گا" وہ خالص رضائے الہی کے جذبے کے تحت مریض کی طرف روانہ ہوتا ہے اور مریض کے حق میں دعائیں کرتا ہوا اس کے پاس پہنچتا ہے۔

بندہ مومن خدا کا تجربہ دنیا میں بھی کرتا ہے اور آخرت میں بھی۔ فرق یہ ہے کہ دنیا میں یہ تجربہ بالواسطہ انداز میں ہوتا ہے اور آخرت میں وہ زیادہ مکمل صورت میں براہ راست انداز میں ہوگا۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 435۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.