Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Jazbaat-e-parastish.

Urdu · 4 min

جذباتِ پرستش: انسان اپنے پیدائشی مزاج کے اعتبار سے ایک پرستش پسند مخلوق ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ کوئی اس کا معبود ہو جس کی وہ پرستش کرے، کوئی ہو جس کو وہ اپنی توجہات کا مرکز بنا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام قومیں ہیرو پرست ہوتی ہیں؛ وہ اپنے اکابر کو اپنے خدا پرستانہ جذبات کا مرکز بنا لیتی ہیں۔ ہیروؤں سے غیر معمولی لگاؤ درحقیقت اسی جذبۂ عبودیت کا غلط استعمال ہے، جو اللہ نے ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر رکھ دیا ہے۔

جس طرح ہر آدمی کو پیاس لگتی ہے اور وہ پانی پینے پر مجبور ہوتا ہے، اسی طرح ہر آدمی خود اپنے اندرونی جذبے کے تحت مجبور ہے کہ وہ کسی کو معبود بنا کر اس کی پرستش کرے۔ کوئی بھی شخص اس احساس سے خالی نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان لیا جا رہا ہے: جو لوگ اپنے جذباتِ پرستش کا مرکز ایک خدا کو بنائیں، وہ سچے پرستار ہیں، وہ امتحان میں کامیاب ہو گئے۔ جو لوگ اپنے جذباتِ پرستش کا مرکز کسی غیر خدا کو بنا لیں، وہ جھوٹے پرستار ہیں، وہ امتحان میں ناکام ہو گئے۔

کچھ لوگ ہیں جو اپنی فطرت میں چھپے ہوئے جذباتِ پرستش کا مرکز بتوں کو یا مظاہرِ فطرت کو بناتے ہیں۔ کچھ اور لوگ ہیں جو اپنے قومی ہیروؤں کو اپنا معبود بنا لیتے ہیں، اور اپنے جذباتِ پرستش ان کے لیے خاص کر دیتے ہیں۔ یہ سب شرک ہے، اور شرک کو خدا کبھی قبول نہیں کرے گا۔ اسی طرح ایک اور طبقہ ہے جو اپنے اکابر سے وہ محبت کرنے لگتا ہے جو خدا سے ہونی چاہیے۔

اپنے اکابر کی باتوں کو وہ اہمیت دینے لگتا ہے جو خدا کی باتوں کو دینا چاہیے۔ جو اپنے اکابر پر کسی بھی قسم کی تنقید سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اکابر کی تقدیس و تعظیم ہی اس کا سرمایہ حیات ہوتی ہے۔ یہ بھی بلاشبہ وہی چیز ہے جسے قرآن میں غیر اللہ کو اپنا معبود بنانا کہا گیا ہے۔

سورہ نمبر 9، آیت 31: حقیقی موحد وہ ہے جس کے جذبات کا مرکز آخری حد تک صرف خدا بن جائے، جو انسانی شخصیتوں میں اٹکا ہوا نہ ہو۔ ایسا آدمی اکابر کے خلاف تنقید سن کر کبھی نہیں بھڑکے گا۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 434۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.