محاسبے کے بغیر۔ بہت سے لوگ ہیں جو خدا کے وجود کو مانتے ہیں، لیکن وہ محاسبہ، یعنی accountability، پر یقین نہیں رکھتے۔ اس قسم کا عقیدۂ خدا بلاشبہ ایک غیر مطلوب عقیدہ ہے۔ خدا کے بارے میں درست عقیدہ صرف وہ ہے جس میں آدمی مواخذہ، یعنی accountability، کے تصور کو مانتا ہو۔
یعنی موت کے بعد خدا کے سامنے حاضری، اور اپنے تمام اعمال کی جواب دہی۔ محاسبہ اور مواخذے کے تصور کے بغیر خدا کو ماننا، خدا کا مطلوب عقیدہ نہیں۔ خدا کے وجود کے بارے میں غیر مسلم حضرات نے ایسی کتابیں چھاپی ہیں جو مسلم مصنفین سے بہت زیادہ بہتر ہیں، مگر ان کتابوں میں محاسبۂ آخرت حذف ہے۔ البتہ خدا کے عقیدے کو پرزور طور پر بیان کیا گیا ہے، مثلاً درج ذیل دو کتابیں: 1) "Evidence of God in an Expanding Universe" compiled by John Clover Monsma، 2) "Man Does Not Stand Alone" by Dr.
Crazy Morrison۔ مؤخر الذکر کتاب کا ترجمہ عربی زبان میں چھپا ہے، جس کا ٹائٹل یہ ہے: "اللہ يتجلى في عصر العلم"۔ حقیقت یہ ہے کہ محاسبۂ آخرت کے تصور کے بغیر خدا کو ماننا، یا اس پر لکھنا اور بولنا، ایک قسم کی روحانی شاعری، یعنی spiritual song ہے۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔
خدا پر درست عقیدہ وہ ہے جس میں آدمی خدا کو خالق اور رب ماننے کے ساتھ، اس کو محاسب اور مجازی بھی مانتا ہو۔ یعنی ایسا خدا جو اس کا مواخذہ کرے، اور جو سزا و جزا کا اختیار رکھتا ہو۔ خدا کا درست عقیدہ وہ ہے جس کے تصور سے آدمی کا دل دہل اٹھے (سورہ نمبر 8 آیت 2)، اور اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں (سورہ نمبر 39 آیت 23)۔ خدا کا درست عقیدہ وہ ہے جو آدمی کے دماغ میں طوفان بن کر داخل ہو، جو آدمی کے دل کو مستقل تڑپ میں مبتلا کر دے۔
عشقِ الہی اور جلوۂ الہی کا تصور اس قسم کی مطلوب کیفیت پیدا نہیں کر سکتا۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 431۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.