Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Azmat-e-ilaahi.

Urdu · 3 min

عظمتِ الٰہی: وسیع خلا میں تقریباً 100 بلین کہکشائیں، یعنی galaxies ہیں۔ ہر کہکشاں کے اندر 100 ملین سے زیادہ ستارے ہیں۔ اس عظیم کائنات کا ایک بہت چھوٹا حصہ ہمارا شمسی نظام، یعنی solar system ہے۔ اسی شمسی نظام میں وہ استثنائی سیارہ واقع ہے جس کو زمین کہا جاتا ہے۔

یہ تمام ستارے اور سیارے ایک بے حد وسیع خلا کے اندر مسلسل، نہایت منظم انداز میں گردش کر رہے ہیں۔ یہ وسیع کائنات تقریباً 15 بلین سال سے قائم ہے، لیکن اس کے مختلف اجسام، یعنی bodies، کے درمیان کبھی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ یہ عظیم کائنات ایک عظیم تر خالق کے وجود کی گواہی دے رہی ہے؛ ایک ایسا خالق جو خالق بھی ہے اور اسی کے ساتھ حیّ و قیّوم بھی۔ وہ قادرِ مطلق بھی ہے اور حکمت اور رحمت کا عطا خزانہ بھی۔

یہ خالق اتنی اعلیٰ سطح پر اس وسیع کائنات کا نظم کر رہا ہے کہ اس کے اندر کوئی نقص، یعنی defect، پایا نہیں جاتا۔ پوری کائنات حیرت انگیز طور پر ایک بے نقص کائنات، یعنی zero defect universe ہے۔ ایمان باللہ کسی کلمے کے لفظی تکرار کا نام نہیں؛ ایمان دراصل اسی عظیم خالق کی دریافت، یعنی discovery، کا نام ہے۔ جب کوئی شخص غور و فکر سے کام لیتا ہے، وہ اپنے وجود سے لے کر بقیہ کائنات تک ایک عظیم تخلیقی کرشمے کی دریافت کرتا ہے۔

تو وہ بے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ بلاشبہ اس دنیا کا ایک خالق ہے، میں اس کا اعتراف کرتا ہوں اور اس کے آگے کامل طور پر surrender کرتا ہوں۔ اسی شعوری دریافت کا نام ایمان باللہ ہے۔ یہ ایمان یا معرفت ایک ایسا فکری انقلاب ہے جو آدمی کی پوری شخصیت کو بدل دیتا ہے۔ اس ایمان کے بعد آدمی کے اندر ایک نئی ربانی شخصیت emerge کرتی ہے۔

یہی وہ انقلابی شخصیت ہے جس کو مومن اور مسلم کہا جاتا ہے۔ یہ شخصیت ہمیشہ شعوری معرفت سے بنتی ہے؛ شعوری معرفت نہیں تو مومنانہ شخصیت بھی نہیں۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 430۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.