ابتدائی حمد، انتہائی حمد۔ رابندر ناتھ ٹیگور، وفات 1941، مشہور بنگالی مصنف ہیں۔ ان کو 1913 میں لٹریچر کا نوبل پرائز ملا۔ انہوں نے اپنی ایک نظم میں کہا ہے: "ساری عمر بینا" یعنی ستار کے تاروں کو سلجھانے میں بیت گئی۔
انتِم یعنی آخری گیت، "جو میں گانا چاہتا تھا، وہ میں نہ گا سکا"۔ ٹیگور نے یہ بات اپنے مخصوص شاعرانہ انداز میں کہی تھی، لیکن یہ بات حمدِ الٰہی کے بارے میں زیادہ درست طور پر صادق آتی ہے۔ ایک مومن جب خدا کو دریافت کرتا ہے تو وہ بے اختیارانہ طور پر یہ چاہنے لگتا ہے کہ وہ خدا کی حمد بیان کرے۔ وہ خدا کی عظمت کے نغمے گائے، لیکن اس کی عمر پوری ہو جاتی ہے اور وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا کی عظمت کا بیان گویا ایک ان کہی عظمت، یعنی Untold Glory، ہو کر رہ گیا ہے۔
قرآن میں مومن کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے ہیں: "الحمدللہ رب العالمین"۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہی حمد دوبارہ آخرت میں بیان کی جائے گی۔ وقيل: "الحمد لله رب العالمين"۔ دونوں میں کیا فرق ہے؟
اصل یہ ہے کہ دنیا میں محدودیت یعنی limitations کی بنا پر ایک مومن صرف ابتدائی حمد بیان کرتا ہے۔ آخرت کی لامحدود دنیا میں، مومن کے لیے یہ موقع ہوگا کہ وہ خدا کی انتہائی حمد بیان کر سکے۔ موجودہ زندگی میں شخصیتوں کا اور دنیاوی موضوعات کا چرچا ہوتا ہے، آخرت میں صرف ایک اللہ کی حمد اور کبریائی کا چرچا ہوگا۔ یہ ایک ابدی چرچا ہوگا جو ہمیشہ نئے نئے پہلوؤں کے اعتبار سے جاری رہے گا، وہ کبھی ختم نہ ہو سکے گا۔
اس وقت مومن کو محسوس ہوگا کہ نئے حالات نے اس کو یہ موقع دے دیا ہے کہ وہ اللہ کی ان کہی عظمت، یعنی Untold Glory، کو بیان کرے اور ابدی طور پر اس کو بیان کرتا رہے۔ موجودہ زندگی گویا کہ اسی ربانی صلاحیت کو پیدا کرنے کی تربیت گاہ ہے۔ آخرت میں خدا کی بے پایاں حمد کو بیان کرنا، بلاشبہ، ایک عظیم ترین سعادت ہے۔ یہ سعادت صرف ان لوگوں کو ملے گی جو موت سے پہلے کی زندگی میں اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کر چکے ہوں۔
کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 424۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.