Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Ijz ka tajriba.

Urdu · 3 min

عجز کا تجربہ ایک حدیث قدسی ان الفاظ میں آئی ہے: "أَنَا عِنْدَ الْمُنْكَسِرَةِ قُلُوبُهُمْ" حلیۃ الاولیاء، جلد 2، صفحہ 364۔ یعنی: "میں ٹوٹے دل والوں کے پاس ہوتا ہوں"۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مادی قسم کی بربادی انسان کو خدا سے قریب کرتی ہے، مگر انسان اپنے کو برباد نہیں ہونے دیتا۔ اس لیے وہ خدا سے قربت کا تجربہ بھی نہیں کرتا۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ انسان کے ساتھ بار بار ناکامی کے واقعات ہوں، وہ دل شکستگی کے تجربے سے دوچار ہو۔ لیکن انسان ہوشیاری کرتا ہے اور اپنے آپ کو اس قسم کے تجربات سے بچانے کے لیے سب کچھ کر ڈالتا ہے۔ اس ہوشیاری کی عام طور پر 2 قسمیں ہیں: ایک یہ کہ صحیح طرز پر معاملہ کرنے میں، جب اس کو کوئی نقصان ہوتا ہوا نظر آتا ہے تو وہ فوراً غلط طریقے اختیار کر کے اپنے آپ کو نقصان سے بچانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔ وہ انصاف اور دیانت داری کے طریقے کو چھوڑ کر بے انصافی اور بددیانتی کا طریقہ اپنا لیتا ہے۔

اس طرح وہ بظاہر اپنی ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کر لیتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو دل شکستگی کے تجربے سے دوچار نہیں ہونے دیتا، حالانکہ دل شکستگی کسی انسان کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آدمی بھلاوا کلچر کو اختیار کر لیتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو دل شکستگی کے احساس سے بچانے کے لیے شراب پیتا ہے، نمائشی تفریحات کے ذریعے اپنا دل بہلاتا ہے۔

وہ مصنوعی سرگرمیوں میں مشغول ہو کر اپنے آپ کو افسردگی کے احساس سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی فطری زندگی گزارے، وہ ہمیشہ اعتدال کے ساتھ رہے، وہ کسی بھی حال میں جھوٹ اور بے انصافی کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ اس طرح وہ ان لمحات سے محروم نہ ہوگا جبکہ اس کے اوپر عجز کا احساس طاری ہو، اور وہ قادر مطلق خدا کی قربت کا تجربہ کرے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 423۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.