خدا کی یاد میں رونا: ایک ماں کا بیٹا اس سے دور چلا گیا، 10 سال تک دونوں کے درمیان کوئی تعلق نہ تھا۔ آخر میں بیٹے کا ایک دوست اس کی ماں کے پاس آیا۔ اس کے پاس بیٹے کا ایک فوٹو تھا۔ اس نے یہ فوٹو ماں کو دکھایا۔
فوٹو دیکھتے ہی ماں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس کا سبب یہ تھا کہ فوٹو کو دیکھ کر ماں کو اپنا بیٹا یاد آ گیا۔ فوٹو کو دیکھنے کے بعد ماں اور بیٹے کے درمیان یادوں کی سطح پر ایک ناقابلِ مشاہدہ اتصال، یعنی invisible contact، قائم ہو گیا۔
اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدا کی یاد میں رونے کا معاملہ کیا ہے۔ یہ خدا اور بندے کے درمیان نفسیات کی سطح پر اتصال کا ایک نتیجہ ہے۔ ایک انسانی روح کو جب اپنے رب سے نفسیاتی اتصال کا تجربہ ہوتا ہے، تو یہ تجربہ آنکھوں سے آنسو کی شکل میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ یہی حقیقت قرآن کی سورہ مریم کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آَيَاتُ الرَّحْمَٰنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا سورہ نمبر 19، آیت 58۔
دوسری جگہ قرآن کی سورہ العلق میں یہ آیت آئی ہے: وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ سورہ نمبر 96، آیت 19۔ ایک حقیقی سجدہ خدا اور بندے کے درمیان قربت کا لمحہ ہوتا ہے۔ اس وقت خدا اور بندے کے درمیان ایک غیر مری سطح پر روحانی اتصال قائم ہو جاتا ہے۔ اتصال کا یہ تجربہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ بندے کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑتے ہیں۔
دنیا کی زندگی میں کسی انسان کے لیے سب سے بڑا روحانی واقعہ یہ ہے کہ اس کو خدا سے قربت کا تجربہ ہو۔ قربت کا یہ واقعہ دو مساوی، یعنی equals، وجود کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ دو غیر مساوی، یعنی inequals، وجود کے درمیان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس اتصال کے وقت انسان کا وہی حال ہوتا ہے جو حضرت موسیٰ کے زمانے میں اسی قسم کے غیر مساوی اتصال کے وقت پہاڑ کا ہوا تھا۔ سورہ نمبر 7، آیت 143۔
کسی بندے کے لیے یہ تجربہ دو انتہائی کیفیات کی یکجائی کے ہم معنی ہوتا ہے: ایک اعتبار سے شدید اضطراب، اور دوسرے اعتبار سے شدید اطمینان۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 418۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.