Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Ek waqia.

Urdu · 8 min

ایک واقعہ 24 اکتوبر 2006 کا واقعہ ہے۔ یہ عید کا دن تھا، میں اپنے گھر والوں کے ساتھ نئی دہلی کی ایک مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے گیا۔ وہاں میں مسجد کے ایک گوشے میں تنہا بیٹھا ہوا تھا۔ میں مسلسل رو رہا تھا اور بے قراری کے عالم میں دل کی زبان سے دعا کر رہا تھا۔

میری اس حالت کو مولانا محمد زکوان ندوی نے دیکھا۔ بعد کو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا کیا معاملہ تھا۔ ان کے پوچھنے پر میں نے بتایا کہ مجھے وہ حدیث یاد آئی جس میں عید الفطر کے دن نماز کے لیے نکلنے والے اہلِ ایمان کا ذکر ہے۔ وہ حدیث اس طرح ہے: فَإِذَا كَانَ يَوْمُ عِيدِهِمْ یَعْنِي يَوْمَ فِطْرِهِمْ بَاحَىٰ بِهِمْ مَلَائِكَتَهُ فَقَالَ مَلَائِكَتِي مَا جَزَاءُ أَجِيرٍ وَفَّىٰ عَمَلَهُ قَالُوا رَبَّنَا جَزَاءُهُ أَنْ يُوَفَّىٰ أَجْرُهُ قَالَ مَلَائِكَتِي عَبِيدِي وَإِمَائِي قَضَوْا فَرِيضَتِي عَلَيْهِمْ ثُمَّ خَرَجُوا يَعُجُّونَ إِلَى الدُّعَاءِ وَعِزَّتِي وَجَلَالِي وَكَرَمِي وَعُلُوَّي وَارْتِفَاعِ مَكَانِي لَأَجِيبَنَّهُمْ لَأُجِيبَنَّهُمْ فَيَقُولُوا اِرْجِعُوا فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ وَبَدَّلْتُ سَيِّئَاتِكُمْ حَسَنَاتٍ قَالَ فَيَرْجِعُونَ مَغْفُورًا لَهُمْ رواه البیہقی، فی شعب الایمان، رقم الحدیث 3444۔

ترجمہ: جب ان کی عید کا دن آتا ہے، یعنی عید فطر کا دن، تو اللہ تعالی فرشتوں کے سامنے ان پر فخر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے: اے میرے فرشتو! اس عامل کا اجر کیا ہے جس نے اپنے عمل کو پورا کر دیا؟ فرشتے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب!

اس کی جزا یہ ہے کہ اس کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دے دیا جائے۔ خدا کہتا ہے کہ اے میرے فرشتو! میرے بندوں اور میری بندیوں نے میرے اس فرض کو ادا کر دیا جو ان پر تھا۔ پھر وہ نکلے ہیں دعا کے ساتھ مجھ کو پکارتے ہوئے: میری عزت اور میرے جلال کی قسم، میرے کرم، میرے علو شان اور میرے بلند مقام کی قسم، میں ضرور ان کی پکار کو سنوں گا۔

پھر خدا کہتا ہے کہ تم لوگ واپس جاؤ، میں نے تم کو بخش دیا اور میں نے تمہارے سیئات کو حسنات میں بدل دیا۔ پس وہ لوگ اس طرح لوٹتے ہیں کہ ان کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے۔ آج کے دن کی نسبت سے یہ حدیث مجھے یاد آئی۔ یہ سوچ کر میرا دل بے قرار ہو گیا کہ آج کے دن خدا لوگوں کو بڑے بڑے انعام دے رہا ہے۔

لیکن یہ انعام عمل کرنے والوں کے لیے ہے، اور میرے پاس کوئی عمل نہیں۔ پھر مجھ کو سر سید احمد خان وفات 1898 کا ایک واقعہ یاد آیا۔ وہ اپنے محمدن کالج، یعنی موجودہ علی گڑھ یونیورسٹی کے چندے کے لیے ایک مسلم نواب کے یہاں گئے۔ نواب صاحب سر سید کے بعض خیالات پر ان سے بہت غصہ تھے۔

انہوں نے سر سید سے ملنے سے انکار کر دیا۔ مگر سر سید مایوس نہیں ہوئے۔ ان کو معلوم تھا کہ شام کو نواب صاحب اپنی گھوڑا گاڑی پر سیر کے لیے نکلتے ہیں۔ اس وقت ان کی کوٹھی کے سامنے بھکاری لوگ بیٹھ جاتے ہیں۔

نواب صاحب ہر ایک کو کچھ نہ کچھ دیتے ہوئے آگے چلے جاتے ہیں۔ سر سید شام کے وقت وہاں پہنچے اور بھکاریوں کی صف میں اس طرح بیٹھ گئے کہ اپنی ٹوپی کو کاسۂ گدائی کی طرح اپنے سامنے رکھ لیا۔ نواب صاحب حسبِ معمول اپنی گھوڑا گاڑی پر نکلے۔ انہوں نے دیکھا کہ سر سید بھکاریوں کی صف میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

یہ دیکھ کر نواب صاحب کو تعجب ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سید! تم یہاں کہاں؟ سر سید نے جواب دیا کہ نواب صاحب!

اگر آپ مجھے چندہ نہیں دے سکتے تو بھیک تو دے سکتے ہیں۔ اس بات کا نواب صاحب پر بہت اثر پڑا۔ وہ اپنی گاڑی سے اتر پڑے اور سر سید کو لے کر اپنی کوٹھی کے اندر گئے۔ ان کو عزت کے ساتھ بٹھایا اور ان کو کالج کے لیے کافی چندہ دیا۔

میں نے اس واقعے کو لے کر کہا کہ خدایا! اگر میں عمل کی بنیاد پر کچھ پانے کا مستحق نہیں تو بھیک کے طور پر تو مجھے اپنا انعام عطا کر دے۔ کیونکہ تو نے قرآن میں جس طرح عامل کو عطیے کا مستحق قرار دیا ہے، اسی طرح تو نے سائل کو بھی عطیے کا مستحق بتایا ہے۔ اگر تو انسان سے یہ چاہتا ہے کہ وہ عامل کو دینے کے ساتھ سائل کو بھی دے تو یقیناً میں امید کر سکتا ہوں کہ تو خود بھی میرے ساتھ اسی طرح کا معاملہ فرمائے گا۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی اسم اعظم کے ساتھ دعا کی ایک مثال ہے، جس کی توفیق مجھے خدا کی خصوصی رحمت کے تحت حاصل ہوئی۔ جہاں تک میرا تجربہ ہے، اسم اعظم کے ساتھ دعا نہ تو کسی یاد کیے ہوئے الفاظ کو دہرانے کا نام ہے، اور نہ خود انسان پیشگی طور پر سوچ کر اس قسم کی دعا کر سکتا ہے۔ اس قسم کی دعا براہِ راست خدا کی توفیق سے ہوتی ہے، اور وہ اچانک ہی انسان کے سینے سے ابل پڑتی ہے، جیسے کوئی جوالہ مکھی پہاڑ اچانک پھٹ پڑے، حالانکہ موسمیات کے ماہرین نے اس کی پیشنگوئی نہ کی ہو۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 381۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.