Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Asri uslub me islami literature.

Urdu · 10 min

عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر: پروفیسر محمد مجیب، وفات 1985، جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے تین بڑے ستونوں میں سے ایک تھے۔ بقیہ دو یہ تھے: ڈاکٹر ذاکر حسین، وفات 1969؛ ڈاکٹر عابد حسین، وفات 1978۔ پروفیسر مجیب نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے، ان کو انگریزی زبان پر غیر معمولی قدرت تھی۔ انہوں نے مستشرقین، یعنی اورینٹلسٹس، کا لٹریچر تفصیل کے ساتھ پڑھا تھا۔

غالباً 1970 کی بات ہے، میں جامعہ ملیہ کے کیمپس میں پروفیسر مجیب سے ملا۔ اس وقت پروفیسر انوار علی خان سوز، وفات 1987، بھی میرے ساتھ تھے۔ گفتگو کے دوران پروفیسر مجیب نے خاص انداز میں مجھ سے کہا: "مولوی صاحب، آپ جانتے ہیں کہ اس زمانے میں اسلام کی نمائندگی یہودی اسکالر کر رہے ہیں۔ " ان کا مطلب یہ تھا کہ موجودہ زمانے میں ایک نیا اسلوبِ تحریر پیدا ہوا ہے۔

اس اسلوبِ تحریر میں مسلم علما اسلامی لٹریچر تیار نہ کر سکے۔ البتہ تعلیم یافتہ یہودیوں نے یہ کام کیا: انہوں نے وقت کے جدید اسلوب میں اسلام کے مختلف موضوعات پر کتابیں لکھیں۔ ان کتابوں میں اگرچہ اسلام کی تعلیمات کو بگڑی ہوئی صورت میں پیش کیا گیا ہے، لیکن اسلوبِ تحریر کے اعتبار سے وہ وقت کے اسلوب میں ہیں۔ اس لیے آج جو تعلیم یافتہ لوگ انگریزی زبان میں اسلام کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں، وہ اکثر انہی یہودی علما کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔

میں پروفیسر مجیب کی باتوں کو سنتا رہا۔ میں نے ان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا، لیکن ان کی بات کو سن کر میرے دماغ میں ایک بھونچال آ گیا۔ میں خاموشی کے ساتھ واپس آ گیا، اور پھر رات دن یہ دعا کرنے لگا کہ خدایا مجھے توفیق دیجئے کہ میں آپ کے دین کو آج کے اسلوب میں دنیا کے سامنے پیش کر سکوں۔ میں عصری اسلوب میں اسلام کا لٹریچر تیار کر سکوں۔

میں اکثر کسی واقعے کا حوالہ دے کر دعا کرتا ہوں۔ اس معاملے میں بھی میں نے ایسا ہی کیا۔ اصل یہ ہے کہ آزادی کے بعد یو پی میں خاتمہ زمینداری کا قانون، یعنی زمینداری ابولیشن ایکٹ، نافذ ہوا۔ نیشنل گورنمنٹ کے تحت یہ قانون اس اصول پر مبنی تھا کہ "جو جوتے اس کا کھیت"۔

میرا خاندان یو پی کے اعظم گڑھ سے تعلق رکھتا تھا۔ ہمارا خاندان وہاں کے بڑے زمینداروں میں سے ایک تھا۔ ہماری زمینیں زیادہ تر کسانوں کو دی ہوئی تھیں، جو ان کو جوتتے تھے اور لگان ادا کرتے تھے۔ خاتمہ زمینداری کے قانون کے مطابق زمیندار کو اس کی زمین واپس ملنے کی صرف ایک ہی صورت تھی، وہ یہ کہ زمین کو جوتنے والا کسان تحریری طور پر زمین سے استعفیٰ دے دے۔

ہماری بیشتر زمینیں کسانوں کے پاس تھیں۔ یہ کسان سب کے سب ہندو لوگ تھے۔ ہماری زمینداری کے مینیجر بھی ایک ہندو تھے، جن کا نام بھاؤ رام تھا۔ بھاؤ رام ہمارے خاندان کے نہایت وفادار ملازم تھے۔

انہوں نے ایک طوفانی مہم چلا دی کہ تمام کسان جو ہماری زمینوں کو جوتے ہوئے تھے، وہ تحریری استعفیٰ دے دیں۔ بھاؤ رام نے اپنی رات دن کی کوشش سے ایک ایک کسان سے استعفیٰ لکھوا لیا۔ ہمارے ساتھ استثنائی طور پر ایسا ہوا کہ ہمارا کوئی بھی کھیت ایسا نہ بچا جس کا تحریری استعفیٰ حاصل نہ کر لیا گیا ہو۔ اس زمانے میں بھاؤ رام پر ایک دیوانگی طاری تھی۔

وہ ہم لوگوں سے کہتے تھے کہ "بابو، جمداری میں داغ نہ لگنے پائے"۔ یعنی: "بابو، زمینداری میں داغ نہ لگنے پائے"۔ میں اس واقعے کے حوالے سے خدا سے دعا کرنے لگا۔ میں روتا تھا اور یہ کہتا تھا کہ خدایا، تیرے دین میں ایک داغ لگ رہا ہے۔

تیرا دین اس اسلوب میں پیش نہیں ہو رہا ہے جو آج کے جدید ذہن کو ایڈریس کر سکے۔ تو مجھے توفیق دے کہ میں تیرے دین کے اس داغ کو ہٹاؤں۔ میں وقت کے اسلوب میں اسلام کو پیش کر سکوں۔ میں بے قرار دل اور اشک بار آنکھوں کے ساتھ یہ دعا کرتا تھا، اور رات دن اپنی تیاری میں مشغول رہتا تھا۔

اس زمانے میں میری بے قراری کا عالم یہ تھا کہ ایک بار میں دلی پبلک لائبریری میں گیا۔ وہاں کے ریفرنس سیکشن میں جا کر ریفرنس کی کتابوں کو پڑھنے لگا۔ اس وقت میری محویت کا یہ عالم تھا کہ میں قریب کی کرسی پر نہ بیٹھ سکا۔ میں الماری کے سامنے کھڑا تھا، اور کتابیں نکال نکال کر پڑھ رہا تھا۔

یہ سخت سردی کا زمانہ تھا، چنانچہ مجھے سردی لگ گئی، اور میں بیمار ہو کر تقریباً 2 مہینے تک بستر پر پڑا رہا۔ آج جب کہ میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں، میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے خدا کی توفیق سے تقریباً ہر اسلامی موضوع پر اتنی کتابیں لکھی ہیں جو ایک تعلیم یافتہ انسان کے لیے وقت کے اسلوب میں اسلام کا مؤثر تعارف پیش کرتی ہیں۔ مشرق اور مغرب دونوں جگہ کے اہل علم نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔ لوگوں کا یہ تاثر یہاں تک پہنچا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں بہت سے تعلیم یافتہ لوگوں نے میرے لٹریچر کو پھیلانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دی ہیں۔

امریکہ میں مقیم کچھ تعلیم یافتہ مسلمانوں نے اپنے ذاتی جذبے کے تحت میری تمام کتابوں اور ماہنامہ الرسالہ کو انٹرنیٹ کے ویب سائٹ پر ڈال دیا ہے۔ اب دنیا کے کسی بھی حصے میں کوئی آدمی میری تحریروں کو اردو اور انگریزی میں انٹرنیٹ کی مدد سے پڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح مصر کے کچھ عرب حضرات میری کتابوں کو انٹرنیٹ پر ڈال رہے ہیں۔ ان شاء اللہ اب ہر جگہ میری عربی کتابیں بھی انٹرنیٹ کی مدد سے پڑھی جا سکیں گی۔

اس کے علاوہ انڈیا میں ایک پوری ٹیم نے اپنے آپ کو اس مشن کے لیے وقف کر دیا ہے۔ اس طرح یہ کام اب ہر دن عالمی سطح پر پھیل رہا ہے۔ اسی طرح کچھ تعلیم یافتہ لوگوں نے اس لٹریچر کو اتنی زیادہ اہمیت دی کہ انہوں نے محض ذاتی جذبے کے تحت میری اردو اور انگریزی تقریروں کو ٹی وی کے پروگرام میں شامل کر دیا۔ فجزاہم اللہ خیر الجزاء۔

عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر کا وجود میں آنا بلاشبہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ میرے جیسے عاجز اور بے حقیقت آدمی کے ذریعے یہ واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کی اس کے سوا کوئی اور توجیہ ممکن نہیں کہ اسم اعظم کے ساتھ مانگی جانے والی دعا، جو میرے بے قرار دل سے نکلی، اس کو خدا نے قبول فرمایا۔ اور اس طرح اسلام کے جدید تعارف کا وہ واقعہ پیش آیا جو میرے جیسے انسان کے لیے ناقابل تصور تھا۔

کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 379۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.