ایک وضاحت: مذکورہ حدیث میں ایک صحابی کی دعا کا ذکر ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ دعا کے متعلق فرمایا کہ یہ دعا اسمِ اعظم کی دعا تھی۔ چونکہ یہ دعا صحابی نے عربی زبان میں کی تھی، اس لیے لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اسمِ اعظم والی دعا وہی ہے جو عربی زبان میں کی گئی ہو۔ غیر عربی زبان کی دعا اسمِ اعظم کی دعا نہیں، مگر یہ سوچ درست نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، صحابی نے جو دعا کی وہ ان کی اپنی مادری زبان میں تھی، نہ کہ سادہ طور پر عربی زبان میں۔
دعا کو عربی زبان کے ساتھ مخصوص کرنا ایک غیر فطری نظریہ ہے۔ دعا دل کے جذبات کا نام ہے، نہ کہ کسی زبان کے الفاظ کا نام۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ہر پیغمبر اپنی قوم کی زبان میں بھیجا گیا۔ سورہ نمبر 14 آیت 1۔
یہی معاملہ دعا کا بھی ہے: جس طرح دعوت مخاطب قوم کی زبان میں ہوتی ہے، اسی طرح دعا دعا کرنے والے کی اپنی مادری زبان میں ہوتی ہے۔ ایسا ماننا بہت ضروری ہے، اس لیے کہ اگر دعا کو عربی زبان کے ساتھ مخصوص کر دیا جائے، یا عربی زبان کو دعا یا عربی زبان کی دعا کو افضل دعا بتایا جائے، تو یہ دعا کی اصل روح کو ختم کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ دعا کسی قسم کی تکرارِ الفاظ کا نام نہیں؛ دعا تڑپتے ہوئے دل کی پکار کا نام ہے۔ اور ایسی دعا ہمیشہ آدمی کی اپنی مادری زبان ہی میں ظہور میں آتی ہے۔
کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 357۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.