← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Ism-e-aazam.
Urdu · 6 min
اسمِ اعظم اسمائے حسنیٰ کے ذیل میں ایک بحث یہ ہے کہ کیا خدا کا کوئی اسمِ اعظم ہے، اور اگر ہے تو وہ کیا ہے۔ اسمِ اعظم کے متعلق مختلف روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ اس سلسلے میں مسند احمد بن حنبل کی دو روایتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں۔ نمبر 1: عن انس بن مالک ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم سمع رجلاً يقول: «اللهم إني أسألك أن لك الحمد، لا إله إلا أنت وحدك، لا شريك لك، المنان، بديع السماوات والأرض، ذا الجلال والإكرام».
فقال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: «لقد سألت الله باسم الله الأعظم، الذي إذا دُعي به أجاب، وإذا سُئل به أعطى». جلد 3، صفحہ 120۔ حدیث نمبر 2: عن عبداللہ بن بریدۃ عن ابیہ قال: سمع النبي صلی اللہ علیہ وسلم رجلاً يقول: «اللهم إني أسألك بأني أشهد أنك أنت الله، الذي لا إله إلا أنت الأحد الصمد، الذي لم يلد ولم يولد، ولم يكن له كفواً أحد». فقال: «قد سألت الله باسم الله الأعظم، الذي إذا سُئل به أعطى، وإذا دُعي به أجاب».
جلد 5، صفحہ 350۔ ترجمہ: انس ابن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ: "اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، تیرے ہی لیے حمد ہے، تو ہی الہ ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔ تو بڑا احسان کرنے والا ہے، زمین اور آسمان کو کسی نمونے کے بغیر پیدا کرنے والا ہے، تو عزت اور کبریائی والا ہے"۔
یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تو نے اللہ کو اس کے اس اسمِ اعظم کے ساتھ پکارا جس کے ساتھ اس کو پکارا جائے، تو وہ ضرور پکار کا جواب دیتا ہے۔ اور جب اس کے ساتھ سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے"۔ عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ: "اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی الہ نہیں۔
تو اکیلا ہے، تو بے نیاز ہے، تو نے نہ کسی کو جنا اور نہ تجھے کسی نے جنا، اور تیرے برابر کوئی نہیں"۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تو نے اللہ سے اس کے اس اسمِ اعظم کے ساتھ سوال کیا ہے جس کے ساتھ اس سے مانگا جائے، تو وہ ضرور عطا کرتا ہے، اور جب اس کے ساتھ دعا کی جائے تو وہ ضرور اس کو قبول کرتا ہے"۔ دونوں روایتوں میں اللہ کے ساتھ اس کے اور کئی صفاتی نام آئے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسمِ اعظم سے مراد کوئی ایک نام نہیں ہو سکتا۔
اگر اسمِ اعظم کوئی ایک نام ہوتا تو صحابی کی مذکورہ دعا میں بھی صرف وہی ایک نام ہوتا، جبکہ اس دعا میں واضح طور پر خدا کے کئی نام ہیں۔ اس واضح اشارے کے باوجود اسمِ اعظم کو خدا کا کوئی ایک نام سمجھنا اور اسی ایک نام کی تلاش میں لگے رہنا بلاشبہ ایک غلطی ہوگی۔ اسمِ اعظم کسی لفظِ اعظم کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ معنیِ اعظم کا نام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسمِ اعظم سے مراد خدا کا کوئی ایک نام نہیں ہے، بلکہ وہ خصوصی کیفیت کے ساتھ خدا کو پکارنے کا نام ہے۔
اسمِ اعظم سے مراد اسمِ اعظم نہیں ہے، بلکہ کیفیتِ اعظم ہے۔ مذکورہ دعا میں صحابی نے کسی رٹے ہوئے دعائیہ لفظ کو استعمال نہیں کیا، بلکہ جذبات کے وفور میں ان کی زبان سے کچھ خاص الفاظ نکل گئے۔ اسی کا نام اسمِ اعظم کے ساتھ خدا کو پکارنا ہے۔ اسمِ اعظم کا تعلق دراصل ربانی کیفیت سے ہے۔
کیفیت سے بھرے ہوئے الفاظ میں خدا کو پکارنے کا نام اسمِ اعظم ہے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 356۔