Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Point of reference.

Urdu · 3 min

پوائنٹ آف ریفرنس: قرآن میں خدا کے جو اسمائے حسنیٰ بتائے گئے ہیں، ان میں سے ہر نام ہم کو غور و فکر کے لیے ایک پوائنٹ آف ریفرنس دیتا ہے۔ ان ناموں کے ذریعے ہم کو ایک متعین رہنمائی مل جاتی ہے، جس کو لے کر ہم خدا کی ہستی کا تصور کر سکیں اور اس کی مختلف صفات، یعنی attributes، کا تصور کرتے ہوئے خدا کی ہستی سے متعین نوعیت کا ذہنی رشتہ قائم کر سکیں۔ خدا سے اسی تعلق کا نام معرفت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جہاں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کے لیے تمام اچھے نام ہیں، اس کے بعد فوراً یہ ارشاد ہوا ہے: "پس تم انہی اچھے ناموں سے خدا کو پکارو" اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو خدا کے ناموں میں کجروی کرتے ہیں۔

سورہ نمبر 7، آیت 180۔ یعنی انہی ناموں کے ذریعے خدائے کامل الصفات کا تصور قائم کرو، نہ کہ ان ناموں کے ذریعے جو دوسروں نے خود ساختہ طور پر بنا لیے ہیں۔ خدا کیا ہے؟ خدا ایک اعتبار سے ہمارے عجز، یعنی helplessness، کی تلافی ہے۔

انسان اپنی تخلیق کے لحاظ سے عاجز ہے۔ انسان اپنی تخلیق کے لحاظ سے عاجزِ مطلق ہے، اور خدا خالق و مالک ہونے کی بنا پر قادرِ مطلق ہے۔ اس لیے یہ فطری ہے کہ انسان ہر موقع پر خدا کو پکارے۔ خدا کے اسمائے حسنیٰ اس کام میں انسان کے لیے مددگار کی حیثیت رکھتے ہیں۔

خدا کے یہ تمام نام دراصل انسان کی نسبت سے ہیں۔ انسان اپنی نفسیات کے اعتبار سے جن خدائی حوالوں کا محتاج ہے، وہ تمام خدائی حوالے ان ناموں کے اندر موجود ہیں۔ آدمی کے اندر جب بھی اپنے عجز، اپنی عبدیت، اور اپنی حیثیتِ انسانی کے اعتبار سے کوئی جذبہ جاگتا ہے، تو یہ خدائی نام اس کو فوراً ایک رہنما لفظ دے دیتے ہیں۔ ان رہنما الفاظ کے ذریعے سے وہ اسی طرح خدائے رب العالمین سے مربوط ہو جاتا ہے، جس طرح ٹیلی فون پر ایک نمبر ڈائل کر کے وہ اپنی مطلوب شخصیت سے فی الفور ربط قائم کر لیتا ہے۔

کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 353۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.