ایک مثال: کسی ماں کا بچہ اپنی ماں سے دور ہو تو اس کی ماں ایسا نہیں کرے گی کہ وہ مٹی یا پتھر کے ذریعے اپنے بچے کی مورتی بنائے اور اس پر صبح و شام پھول چڑھائے، یا وہ اپنے بچے کے مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے اس کی کئی مورتیاں بنائے اور ان مورتیوں کے آگے وہ مختلف رسمیں ادا کرے۔ اگر کوئی ماں ایسا کرے تو اس طرح اس کو اس کے جذبات کی تسکین نہیں ملے گی، اپنے بچے کے ساتھ اس کا کوئی تعلق قائم نہیں ہوگا۔ اگر کوئی ماں ایسا کرے تو اس کے لیے اپنے بچے سے تعلق محض ایک ظاہرداری کی رسم بن جائے گی۔ اس طرح کے ظاہردارانہ رسوم کسی بھی درجے میں ماں اور بچے کے درمیان لطیف تعلق کا بدل نہیں بن سکتیں۔
یہی وجہ ہے کہ کبھی کسی ماں نے ایسا نہیں کیا۔ ماں اپنے دور کے بیٹے سے ہمیشہ تصوراتی تعلق قائم کرتی ہے۔ وہ اس کی مورتی بنا کر اس کے ذریعے اپنے بچے سے تعلق قائم کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔ اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ خدا کے نام پر خدا کے بت بنانا کتنا زیادہ بے اصل بات ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جو لوگ خدا کے نام پر بتوں کی پوجا کرتے ہیں، یا جو لوگ خدا کے نام پر قبروں اور درگاہوں کے آگے جھکتے ہیں اور پھول اور چادر چڑھاتے ہیں، وہ خدا کے ساتھ حقیقی تعلق سے بالکل محروم ہوتے ہیں۔ وہ ہمیشہ کچھ ظاہری رسوم میں جیتے رہتے ہیں۔ خدا کے ساتھ تعلق کی لطیف حقیقت سے وہ کبھی آشنا نہیں ہوتے۔ خدا ان کے لیے محض ایک بے روح لفظ ہوتا ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 346۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.