Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Khuda ka physical model.

Urdu · 8 min

خدا کا فزیکل ماڈل، خدا کا عقیدہ، انسان کے اندر ہمیشہ سے پایا گیا ہے۔ اینتھروپولوجی کے تحت جو مطالعہ کیا گیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسانی سماج کسی نہ کسی اعتبار سے خدا کو مانتا رہا ہے۔ خدا کا عقیدہ فلسفیوں کے یہاں بھی پایا گیا ہے، اور اہلِ مذاہب کے یہاں بھی۔ لیکن فلسفہ اور مذہب دونوں میں خدا کا عقیدہ ایک بے صفات خدا، یعنی attribute-less God، کی حیثیت سے پایا جاتا رہا ہے۔

یعنی کاسمک ریز، یا زمین کی قوتِ کشش، یعنی gravity کی مانند۔ لیکن مجرد خدا، یعنی abstract God، انسان کی ذہنی گرفت میں نہیں آتا۔ انسان خدا کا ایک ایسا ماڈل بنانا چاہتا ہے جس میں وہ خدا کو صفات کی اصطلاحوں، یعنی in terms of attributes، میں قابلِ فہم بنا سکے۔ انسان کی یہی ضرورت ہے جس کے غیر فطری اظہار کے نتیجے میں بت وجود میں آئے۔

انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ الفاظ یا ناموں کے ذریعے کسی حقیقت کو اپنے ذہن کی گرفت میں لاتا ہے۔ اس طرح مختلف بت انسان کو مختلف الفاظ یا نام دے دیتے ہیں، جن کے ذریعے وہ بظاہر ایک ماڈل کے روپ میں خدا کا ادراک کرتا ہے۔ انسان نے اپنی اسی فطری ضرورت کو پورا کرنے کے لیے غلط طور پر بت بنائے، اور ان کی پرستش شروع کر دی۔ لیکن بتوں کی شکل میں خدا کا ماڈل بنانا ایک بے بنیاد قیاس ہے۔

کیونکہ خدا کو بتوں کا روپ دینا ایک لامحدود ہستی کو محدود کا روپ دینا ہے۔ یہ خدا کا ایک بگڑا ہوا فارم ہے۔ یہ خدا کے نام پر خدا کی نفی کے ہم معنی ہے۔ بت چونکہ مٹی یا پتھر کے ہوتے ہیں، اور انسان خود ان بتوں کو بناتا ہے، خدا کو بتوں کی شکل دینے کے باوجود ہر انسان یہ سمجھتا ہے کہ یہ صرف مٹی اور پتھر ہیں۔

ان کے اندر کوئی ذاتی طاقت نہیں۔ اس لیے بتوں کی سطح پر خدا پرستی عملاً صرف ایک بے روح رسم بن جاتی ہے۔ انسان کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ بتوں سے قلبی ربط قائم کر سکے۔ اس لیے فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ رسمی اعمال خدا پرستی کی جگہ لے لیتے ہیں۔

آدمی خدا پرستی کے نام پر کچھ بے روح رسموں، مثلاً پھول چڑھانے یا نظر و نیاز دینے کو خدا پرستی کے لیے کافی سمجھ لیتا ہے۔ مزید یہ کہ آدمی خدا کے نام پر بتوں سے قریب ہوتا ہے، لیکن بتوں کی طرف سے جوابی طور پر اس کو کوئی inspiration نہیں ملتا۔ انسان داخلی طور پر اپنے لیے کوئی روحانی غذا نہیں پاتا۔ اس لیے بتوں کا کلچر محض ایک بے روح تعلق بن کر رہ جاتا ہے۔

بتوں سے قربت کے باوجود انسان کو اتنی بھی روحانی کیفیت نہیں ملتی جتنا کہ ایک باپ یا ماں کو اپنے بچے سے مل کر حاصل ہوتی ہے۔ انسان ایک باروح شخصیت ہے۔ اپنی اس فطرت کے اعتبار سے اس کو ایک باروح خدا درکار ہے۔ پتھر کی مورتی سے اس قسم کا روحانی تعلق قائم ہونا ممکن نہیں۔

روحانی تعلق دو طرفہ تعلق کا نام ہے۔ ہمارے اندر کیفیات ہوں، لیکن دوسری طرف سے اس کا جواب نہ ملے، تو اس قسم کا ایک طرفہ تعلق صرف اوپری یا غیر فطری تعلق ہوگا۔ وہ انسان کی زندگی میں کوئی حقیقی درجہ حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ واقعہ ایک اور شدید تر خرابی پیدا کرتا ہے۔

وہ یہ کہ بت کلچر آخر میں جھوٹ کلچر یا ظاہرداری کلچر بن کر رہ جاتا ہے۔ بتوں کے اندر خدائی اوصاف ثابت کرنے کے لیے فرضی کہانیاں بنائی جاتی ہیں، اور ان کو خوب شہرت دی جاتی ہے تاکہ بتوں کا جو فائدہ حقیقی طور پر نہیں ملا، ان کے بارے میں لوگوں کو یہ فرضی تاثر دیا جائے کہ وہ حاصل ہوئے یا وہ حاصل ہو سکتے۔ بت پرستی کا یہی ظاہرہ، یعنی phenomenon، قبر پرستی کی دنیا میں بھی نظر آتا ہے۔ قبر پرست لوگ صاحبِ قبر کے نام پر انتہائی بے بنیاد قسم کی فرضی کہانیاں وضع کرتے ہیں۔

وہ جھوٹے خوابوں کا طلسم بناتے ہیں، اور پھر ان فرضی کہانیوں اور فرضی خوابوں کو اس طرح پھیلاتے ہیں جیسے کہ وہ سچ مچ واقع ہوں۔ اس طرح اسنام کلچر اور درگاہ کلچر انسان کو دیوالیہ پن کی حد تک اعلیٰ اخلاق سے دور کر دیتا ہے۔ انسان عین اپنی فطری ساخت کے اعتبار سے ایک جذباتی وجود ہے۔ جذبات کا تفرق، یعنی diversification، ممکن نہیں۔

یعنی diversification، diversification ممکن نہیں۔ انسان فطری طور پر اپنے جذبات کا کوئی ایک مرکز چاہتا ہے۔ جذبات کا کئی مرکز ہونا ایک غیر فطری بات ہے، جو عملاً ممکن نہیں۔ بت پرستی اس معاملے میں بھی انسانی نفسیات سے ٹکرا جاتی ہے۔

فطری طور پر انسان کسی ایک ہی چیز سے جذباتی تعلق قائم کر سکتا ہے۔ بت پرستی کے مذہب میں چونکہ یہ مراکز متعدد ہو جاتے ہیں، اس لیے اس کا عملی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حقیقی خدا پرستی سرے سے ختم ہو جاتی ہے۔ خدا پرستی کے نام پر کچھ بے روح مظاہر باقی رہتے ہیں، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 344۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.