← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Jazba-e-shukr ki hifaazat.
Urdu · 7 min
جذبۂ شکر کی حفاظت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد حدیث کی مختلف کتابوں، یعنی البخاری، مسلم، الترمذی، ابن ماجہ وغیرہ میں آیا ہے۔ مسند احمد کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: «انظروا إلى من هو أسفل منكم، ولا تنظروا إلى من هو فوقكم، فإنه أجدر ألا تصدروا نعمت الله عليكم». مسند احمد، رقم الحدیث 10246۔ یعنی تم اس کو دیکھو جو تم سے نیچے ہے، اور تم اس کو نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہے، کیونکہ اس طرح تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو کم نہیں سمجھو گے۔
اس حدیث کی مزید تشریح ایک اور حدیث سے ہوتی ہے۔ ایک مرفوع روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «خَصْلَتَانِ مَنْ كَانَتَ فِيهِ كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا صَابِرًا» «من نظر فی دنیاہ إلى من هو دونه، فحمدَ اللهَ على ما فضله به عليه» «ومن نظر فی دینہ إلى من هو فوقه، فاقتدى به» «وأما من نظر فی دنیاہ إلى من هو فوقه، فأسفَ على ما فاته، فإنه لا يُكتَبُ شاكرًا ولا صابرًا». فتح الباری، جلد 11، صفحہ 330۔ یعنی دو صفتیں ہیں جو کسی شخص کے اندر ہوں تو اللہ اس کو شاکر اور صابر لکھ دیتا ہے۔
جو دنیا کے معاملے میں اس کو دیکھے جو اس سے کم ہے، پھر وہ اللہ کا شکر کرے اس نعمت پر جو اللہ نے اسے دی ہے۔ اور جو اپنے دین کے معاملے میں اس کو دیکھے جو اس کے اوپر ہے، پھر وہ اس کی پیروی کرے، مگر جو اپنی دنیا کے معاملے میں اس کو دیکھے جو اس کے اوپر ہے، پھر وہ اس پر افسوس کرے جو اس سے کھویا گیا، تو وہ نہ شاکر لکھا جائے گا اور نہ وہ صابر لکھا جائے گا۔ شکر سب سے بڑی عبادت ہے۔ کسی بندے سے جو چیز سب سے زیادہ مطلوب ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اللہ کو ایک عظیم منعیم کے طور پر دریافت کرے۔
اللہ کی نعمتوں کے احساس سے اس کا سینہ بھرا ہوا ہو، اس کی روح میں شکر کا ابدی چشمہ جاری ہو جائے۔ وہ اللہ کو ایک ایسی ہستی کے طور پر پائے جو اس پر بے پایاں نعمتوں کی بارش کر رہا ہے۔ یہ شعور اتنا زیادہ قوی ہو کہ کسی بھی حال میں اس کا سینہ شکرِ خداوندی کے احساس سے خالی نہ ہو۔ مگر یہ کوئی آسان بات نہیں۔
اپنے آپ کو شکر کے جذبے سے سرشار رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آدمی کا شعور اس معاملے میں پوری طرح زندہ ہو۔ وہ اس کا مسلسل اہتمام کرے۔ وہ کسی ایسے خیال کو اپنے دل میں جگہ نہ دے جو اس کے جذبۂ شکر کو مجروح کرنے والا ہو۔ وہ سب کچھ برداشت کر لے، مگر وہ اپنے جذبۂ شکر کا کٹاؤ، یعنی ایروژن، کبھی برداشت نہ کرے۔
موجودہ دنیا میں فطری طور پر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان نابرابری قائم رہتی ہے۔ اس بنا پر ہر آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ مادی اعتبار سے کوئی اس سے کم ہے اور کوئی اس سے زیادہ۔ اب اگر آدمی اپنا مقابلہ اس شخص سے کرے جو بظاہر اس سے زیادہ ہے، تو اس کے اندر کمتری کا احساس پیدا ہوگا اور اس کا جذبۂ شکر دب کر رہ جائے گا۔ اس لیے آدمی کو ایسا کبھی نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنا موازنہ اس شخص سے کرے جو مادی اعتبار سے بظاہر اس سے زیادہ ہے۔
اس کے بجائے آدمی کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنا موازنہ ان لوگوں سے کرے جو مادی اعتبار سے اس سے کم ہیں۔ اس طرح اس کا جذبۂ شکر زندہ رہے گا۔ اس کا دل کبھی نعمت کے احساس سے خالی نہ ہو سکے گا۔ موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ تمام لوگ مادی اعتبار سے یکساں نہیں ہوتے۔
کوئی زیادہ ہوتا ہے اور کوئی کم۔ کوئی پیچھے ہوتا ہے اور کوئی آگے۔ کوئی طاقتور ہوتا ہے اور کوئی کمزور۔ اس قسم کے تمام فرق امتحان کی مصلحت کی بنا پر ہیں۔
ان کا مقصد یہ ہے کہ آدمی مختلف قسم کے حالات سے گزرے، مگر وہ حالات سے متاثر ہوئے بغیر اپنے ایمانی شعور کو زندہ رکھے۔ وہ ناشکری والے حالات سے دوچار ہو، پھر بھی اس کے شکر کے جذبے میں کوئی کمی نہ آئے۔ وہ بے اعترافی کی صورتحال سے گزرے، مگر وہ اپنے اعتراف کی صفت کو نہ کھوئے۔ وہ منفی جذبات پیدا کرنے والے حالات سے دوچار ہو، اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو مثبت طرز فکر پر قائم رکھے۔
شکر وہ سب سے زیادہ قیمتی متاع ہے جس کو انسان اپنے رب کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔ ایسی حالت میں عقلمند انسان وہ ہے جو اپنے سینے کو شکر کے احساس سے خالی نہ ہونے دے، حتیٰ کہ انتہائی غیر موافق صورتحال میں بھی۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 310۔