Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Shuoori ibaadat.

Urdu · 4 min

شعورِ عبادت: عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن الرجل ليكون من أهل الصلاة والصوم والزكاة والحج والعمره، حتى ذكر سهام الخير كلها. حتى ذكر سهام الخير كلها، وما يجزى يوم القيامة إلا بقدر عقله. رواه البیہقی، فی شعب الإيمان، رقم الحدیث 4637۔ یعنی آدمی بظاہر نماز اور روزہ اور زکوٰۃ اور حج اور عمرے کے عمل کرتا ہے، حتیٰ کہ آپ نے تمام اعمالِ خیر کا ذکر کیا، پھر آپ نے فرمایا: مگر قیامت کے دن وہ صرف اپنی عقل کے بقدر اس کا بدلہ پائے گا۔

اس حدیثِ رسول میں عقل کا لفظ استعمال ہوا ہے؛ عقل سے مراد فہم، یعنی understanding ہے۔ اس روایت میں عقل سے مراد وہی چیز ہے جس کو شعور کہا جاتا ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ذکر و عبادت کے اعمال کرتا ہے، لیکن ان اعمال کا انعام ان کے فارم یا کمیت، یعنی quantity کے اعتبار سے نہیں دیا جاتا، بلکہ اعمال کی اصل spirit کے اعتبار سے دیا جاتا ہے۔ کسی آدمی نے جس درجۂ شعور کے ساتھ عبادت کی ہوگی، اسی درجۂ شعور کے اعتبار سے اس کے عمل کا انعام مقرر کیا جائے گا۔

مثلاً ایک آدمی عبادت کرتا ہے، لیکن اس کی عبادت قرآن کے مطابق سہو، یعنی absent-mindedness کے ساتھ ہوتی ہے۔ بظاہر وہ عبادتی افعال کر رہا ہوتا ہے، لیکن شعور کے اعتبار سے وہ غفلت کی حالت میں ہوتا ہے۔ ایسا آدمی غیر مطلوب عبادت کر رہا ہے۔ ذکر و عبادت کی مطلوب صورت وہ ہے جب کہ آدمی کا وہ حال ہو جائے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: کہ خدا کی یاد سے اس کا دل دہل اٹھے۔

سورہ نمبر 8 آیت 2: اور اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ سورہ نمبر 39 آیت 23: یہ دوسرا آدمی زندہ شعور کے ساتھ ذکر و عبادت کا عمل کرتا ہے، خدا کے یہاں تمام بڑے بڑے انعامات اس انسان کو دیے جائیں گے جس نے اس طرح زندہ شعور کے ساتھ ذکر و عبادت کا عمل کیا ہو۔ عبادت کے اس اعلیٰ درجے کو حاصل کرنے کے لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو غیر متعلق چیزوں میں مشغول ہونے سے بچائے، اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ترقیِ ایمان کی دعا کرتا رہے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 308۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.