ابلیس کا چیلنج: قرآن کی سورہ الاعراف میں بتایا گیا ہے کہ آدم کے آگے جھکنے کے سوال پر ابلیس یعنی شیطان غصہ ہو گیا۔ اس نے خدا سے کہا کہ مجھے موقع دیا جائے تو میں ساری نسلِ آدم کو بہکا دوں گا۔ اس وقت اس نے چیلنج دیتے ہوئے کہا: وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ سورہ نمبر 7 آیت 17۔ یعنی تو ان میں سے اکثر لوگوں کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا۔
Most of them you will not find grateful. سورہ نمبر 7 آیت 17۔ انسان کے اوپر خدا کے انگنت احسانات ہیں، اس کے باوجود کیوں ایسا ہوتا ہے کہ انسان ان نعمتوں کا اعتراف نہیں کرتا اور وہ ناشکر گزار بن جاتا ہے؟ اس کا راز خود ابلیس کے کردار کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔
ابلیس ایک جن تھا۔ سورہ نمبر 17 آیت 50۔ جنوں کے اوپر خدا کے بے شمار احسانات تھے۔ جن غیر موجود تھے، خدا نے ان کو وجود دیا۔
جنوں کو آزادی کی نعمت دی، ان کو غیر معمولی اختیار بخشا، ان کو طویل زندگی عطا کی۔ خدا کی دنیا میں زندہ رہنے کے لیے ان کو تمام ضروری سامان دیے۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہوا کہ ابلیس خدا کا ناشکر گزار بن گیا؟ اس کا راز یہ تھا کہ ابلیس پر شکایتی احساس اتنا زیادہ غالب ہوا کہ وہ خدا کے تمام انعامات کو بھول گیا۔
شکایت کے صرف ایک واقعے کو اس نے اس طرح جنرلائز کیا کہ اس کو شکایت کے سوا کوئی اور بات یاد ہی نہ رہی۔ ابلیس کا خاص طریقہ یہی ہے کہ وہ انسانوں کے اندر شکایتی مزاج اس طرح بنائے کہ انسان شکایت کے ایک واقعے کو لے لے اور دوسری تمام اچھی باتوں کو نظر انداز کر کے اسی ایک شکایتی بات کو اپنا مرکزی خیال بنا لے۔ وہ ایک منفی بات کو اس طرح جنرلائز کرے کہ دوسری تمام مثبت باتیں ان کی نظروں سے اوجھل ہو جائیں۔ یہاں تک کہ شکر گزاری کے بے شمار پہلوؤں کے باوجود وہ ناشکر گزار بن جائے۔
جو لوگ اپنے آپ کو اس طرح کے احساس ناشکری میں پائیں، انہیں یقین کرنا چاہیے کہ وہ شیطان کے زیر اثر آ گئے ہیں۔ ایسے لوگوں کو فوراً توبہ کر کے اپنی اصلاح کرنا چاہیے، ورنہ وہ خدا کی سخت پکڑ کی زد میں آ جائیں گے۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 296۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.