عدمِ قدرت کی دریافت: قرآن کی سورہ البلد میں ارشاد ہوا ہے: «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ أَيَحْسَبُ أَنْ لَنْ يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌ» سورہ نمبر 95، آیت 4 تا 5۔ یعنی: ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا، کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے اوپر کسی کو قدرت حاصل نہیں؟ یہاں "انسان" سے مراد بنی نوع انسان ہے، اور "کبد" سے مراد سختی یعنی sufferings ہے۔ قرآن کے اس حصے میں "کبد" کے ساتھ قدرت کا ذکر ہے، اس سے کبد کی مصلحت معلوم ہوتی ہے۔
انسان کو اللہ نے غیر معمولی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا، اسی کے ساتھ اس کو ایسے حالات میں ڈال دیا کہ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی "کبد" میں مبتلا رہے۔ بظاہر سب کچھ حاصل کرنے کے باوجود اس کی زندگی کبد سے خالی نہ ہو۔ ایسا اس لیے کیا گیا کہ انسان اپنی عدمِ قدرت کو دریافت کر سکے۔ انسانی زندگی میں بظاہر قدرت کے باوجود کبد کے پائے جانے کی مصلحت یہی ہے: suffering is a compulsive reminder of God's absolute power.
اس اعتبار سے دیکھیے تو انسانی زندگی میں کبد کا پایا جانا، زحمت میں رحمت یعنی blessing in disguise کا معاملہ ہے۔ خدا سب سے بڑی حقیقت ہونے کے باوجود غیب میں ہے۔ لازمی کبد کی صورت میں خدا انسان کو اپنی موجودگی یعنی presence کا تجربہ کراتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يَنْزِلُ الْبَلَاءُ لِيَسْتَخْرِجَ بِهِ الدُّعَاءَ، الشُّكْرُ لِلَّهِ لِأَبِدْ لِابْنِ أَبِي الدُّنْيَا» رقم الحدیث 129۔
یعنی مصیبت اس لیے آتی ہے تاکہ انسان کے دل سے دعا نکلے۔ دعا نکلنے کا مطلب صرف دعا کے الفاظ نکلنا نہیں ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا ذہن بیدار ہو، اس کے اندر اعلیٰ کیفیات پیدا ہوں، وہ خدا کی صفات کو نئی نئی صورتوں میں دریافت کرنے لگے۔ اور جب ایسا ہوگا تو اس کی زبان سے دعا کے ایسے الفاظ نکلیں گے جو عام حالات میں اس کی زبان سے نہیں نکلے تھے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 295۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.