Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Khuda aur insan.

Urdu · 4 min

خدا اور انسان۔ مسٹر اے اور مسٹر بی کے درمیان ایک پراپرٹی کے بارے میں نزاع ہوئی۔ مسٹر اے کا کہنا تھا کہ یہ پراپرٹی ان کی ہے، اور مسٹر بی نے غلط کارروائی کر کے اس پر ناجائز قبضہ کر لیا ہے۔ دونوں کے درمیان کافی بات چیت ہوئی، لیکن مسٹر بی اپنی غلطی ماننے پر تیار نہیں ہوئے۔

آخر کار مسٹر اے نے مسٹر بی سے کہا کہ اگر آپ خدا کی کتاب اپنے ہاتھ میں لے کر یہ کہہ دیں کہ یہ پراپرٹی آپ کی ہے، تو میں آپ کے دعوے کو مان لوں گا اور پراپرٹی پر آپ کا قبضہ تسلیم کر لوں گا۔ مسٹر بی نے اس کے جواب میں کہا، "اس میں خدا کہاں سے آ گیا؟ " How does God come into the picture? موجودہ زمانے میں یہی تقریباً تمام لوگوں کا حال ہے۔

ہر ایک اپنی مرضی کے مطابق جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے، اور جب اس کو خدا سے ڈرایا جائے تو وہ زبانِ حال یا زبانِ قال سے کہہ دیتا ہے کہ اس میں خدا کہاں سے آ گیا۔ یہ معاملہ صرف عوام کا نہیں ہے، بلکہ خواص بھی اسی میں مبتلا ہیں۔ مثلاً موجودہ زمانے میں جب طبی سائنس میں ترقی ہوئی اور فطرت کے قوانین دریافت کیے گئے، تو جدید تعلیم یافتہ طبقے نے عام طور پر خدا کو کائنات سے خارج کر دیا۔ انہوں نے کہا، "جب سارے واقعات فطرت کے قوانین کے تحت ہو رہے ہیں، تو پھر کائنات کی توجیہ کے لیے خدا کو ماننے کی کیا ضرورت؟

خدا اس دنیا کا خالق اور مالک ہے۔ " مگر عجیب بات ہے کہ ساری تاریخ میں انسان خدا کو وہ اہمیت نہ دے سکا جو اہمیت اس کو دینا چاہیے تھا۔ انسان کا اپنا وجود مکمل طور پر خدا کا عطیہ ہے۔ مال اور اولاد کی صورت میں جو کچھ بھی اس کے پاس ہے، وہ خدا کا دیا ہوا ہے۔

روشنی اور آکسیجن اور غذا اور پانی جیسی ان گنت چیزیں انسان کو مسلسل طور پر حاصل رہتی ہیں۔ ان چیزوں کا دینے والا بھی صرف خدا ہے۔ مگر اس سب سے بڑی حقیقت کا پوری تاریخ میں سب سے کم اعتراف کیا گیا ہے: انسان کے پاس خدا کو دینے کے لیے صرف ایک ہی چیز تھی، اور وہ تھا اس کا اعتراف۔ مگر انسان اسی واحد چیز کو دینے میں ناکام ہو گیا۔

کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 256۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.