دریافت، دریافت، دریافت۔ جاپان کی ایک مثل ہے کہ ہر دن کوئی نئی بات دریافت، یعنی ڈسکور کرو، خواہ سوئی میں دھاگہ ڈالنے کا نیا طریقہ ہی کیوں نہ ہو۔ یہ مثل مادی دریافتوں کے بارے میں ہے: یہی اصول زیادہ بڑے پیمانے پر معرفت یعنی ریئلائزیشن اور روحانیت یعنی سپرچویلٹی کے معاملے پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ روحانیت اور معرفت کوئی جامد چیز نہیں؛ وہ درخت کی مانند ایک مسلسل ترقی پذیر چیز، یعنی گروئنگ اینٹیٹی ہے۔
اصل یہ ہے کہ انسان کے دماغ میں لامحدود صلاحیت موجود ہے: انسانی دماغ کے باہر جو حقائق کی دنیا، یعنی یونیورس آف فیکٹس ہے، وہ بھی لامحدود ہے۔ ایسی حالت میں جو آدمی اپنے ذہن کو مسلسل طور پر بیدار رکھے، اور یکسوئی کے ساتھ غور و فکر کرتا رہے، وہ ہر دن، بلکہ ہر لمحہ، نئی حقیقتوں کو دریافت کرتا رہے گا۔ اس کے لیے دریافتوں کا خزانہ کبھی ختم نہ ہوگا۔ جس طرح مادی خوراک جسم کی غذا ہے، اسی طرح روحانی دریافتیں معرفت کی غذا ہیں۔
مسلسل مادی خوراک جسم کی زندگی کی ضمانت ہے۔ اس طرح مسلسل روحانی دریافتیں کسی انسان کے لیے معرفت اور روحانیت کی زندگی اور ارتقا کی ضمانت ہیں۔ یہ دریافت گویا کہ ایک فکری پراسیس، یعنی انٹلیکچول پراسیس ہے۔ اس پراسیس کو مسلسل طور پر جاری رکھنے کی شرطیں صرف دو ہیں: غور و فکر کرنا، اور اپنے آپ کو ڈسٹریکشن سے بچانا۔
جس آدمی کے اندر یہ دو چیزیں پائی جائیں، وہ ضرور دریافتوں والا انسان بن جائے گا۔ اس کے بعد کوئی بھی چیز اس کو نئی نئی دریافتوں تک پہنچنے سے روکنے والی نہیں۔ دریافت روح کی زندگی ہے، دریافت ذہن کے لیے ذریعۂ ارتقا ہے، دریافت کسی انسان کو مکمل انسان بناتی ہے۔ دریافت کے بغیر کوئی انسان ایسا ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم۔
کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 254۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.