Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Insan numa haiwaan.

Urdu · 4 min

انسان نما حیوان۔ فروری 2008 میں پراگتی میدان، نئی دہلی میں ایک انٹرنیشنل بک فیئر کا انعقاد کیا گیا۔ میں 9 فروری 2008 کو یہ بک فیئر دیکھنے کے لیے وہاں گیا۔ پراگتی میدان کے وسیع رقبے میں ہر طرف کتابوں کے شاندار اسٹال لگے ہوئے تھے۔

ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے نئی دہلی کا پراگتی میدان علم کا شہر، یعنی سٹی آف نالج بن گیا ہے۔ کثیر تعداد میں لوگ کتابوں کو پڑھتے ہوئے اور خریدتے ہوئے نظر آئے۔ جب میں بک فیئر کے اندر چل پھر رہا تھا، اس وقت مجھے وہاں ایک انوکھا منظر دکھائی دیا۔ میں نے دیکھا کہ وہاں انسانوں کے علاوہ ایک کتا بھی ہے۔

وہ لوگوں کے درمیان ادھر ادھر دوڑتا ہوا نظر آیا۔ بظاہر وہ بھی انسانوں کی طرح چل پھر رہا تھا، لیکن اس کو نہ اس بات کا علم تھا کہ یہاں کتابوں کی صورت میں دنیا بھر کا علم موجود ہے، اور نہ اس کو یہ شوق تھا کہ وہ اس عطا علمی ذخیرے سے اپنے لیے کوئی روشنی حاصل کرے۔ بک فیئر کی دنیا میں ایک حیوان کی موجودگی دیکھ کر مجھے قرآن کی سورۃ طہ کی ایک آیت یاد آئی، جس میں بتایا گیا ہے کہ بہت سے لوگ بظاہر انسان دکھائی دیتے ہیں لیکن وہ حیوان کی مانند ہیں۔ وہ اس دنیا میں صرف کھاتے پیتے ہیں اور پھر مر جاتے ہیں۔

سورۃ نمبر 47 آیت 12۔ ایسے لوگ آخرت میں اندھے پن کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔ سورۃ نمبر 20 آیت 125۔ موجودہ دنیا میں ہر طرف خالق کی نشانیاں، یعنی سائنز، بکھری ہوئی ہیں۔

یہ نشانیاں مخلوق کی صورت میں خالق کا تعارف کرا رہی ہیں۔ جو لوگ اس تعارف میں خالق کو دریافت کریں اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالیں، وہ بینا لوگ ہیں۔ اور جو لوگ اس تعارف میں خالق کو نہ دیکھیں، وہ گویا کہ اندھے تھے۔ وہ دنیا میں اندھے بن کر رہے، اس لیے وہ آخرت میں بھی اندھے پن کی حالت میں اٹھائے جائیں گے۔

ایسے لوگ بظاہر انسان، مگر حقیقت میں وہ حیوان ہیں۔ دنیا میں ان کی یہ حقیقت چھپی ہوئی ہے، لیکن آخرت میں ان کی یہ حقیقت عیاں ہو کر سامنے آ جائے گی۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 253۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.