Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Tazkia ek nafsiyaati amal.

Urdu · 3 min

تزکیہ ایک نفسیاتی عمل ہے۔ تزکیہ کا حصول کسی قسم کی لسانی تکرار یا کسی قسم کی جسمانی ورزش کے ذریعے ممکن نہیں۔ تزکیہ تمام تر ایک نفسیاتی عمل ہے، اور نفسیات کے سطح پر ہی اس کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ نفسیاتی عمل سے مراد ذہنی عمل ہے۔

انسان کا ذہن ہر قسم کی سوچ کا مرکز ہے۔ یہ دراصل ذہن ہے جو کسی انسان کی شخصیت کی تشکیل کرتا ہے۔ غیر مزکّہ شخصیت کو بھی اس کا ذہن بناتا ہے، اور مزکّہ شخصیت کو جو چیز بناتی ہے وہ بھی اس کا ذہن ہے۔ تزکیہ کے لیے اصل چیز جو مطلوب ہے وہ ذہنی ارتقاء، یعنی انٹلیکچول ڈویلپمنٹ ہے۔

یعنی شعور کو اس طرح ترقی دینا کہ وہ چیزوں کو سارٹ آؤٹ، یعنی سورٹ آؤٹ کر سکے۔ وہ منفی احساس کو مثبت احساس میں کنورٹ کر سکے۔ وہ چیزوں میں خالق کے جلوے کا مشاہدہ کر سکے۔ وہ مادی واقعات میں روحانی پہلو کو دریافت کر سکے۔

وہ خارجی اثرات سے محفوظ رہ کر سوچ سکے۔ وہ شیطان کی تزئین کو پہچان کر اسے رد کر سکے۔ وہ نفس کی ترغیبات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے۔ اس کو مستقبل بینی کی نظر حاصل ہو جائے۔

وہ بے نتیجہ کام سے اپنے آپ کو دور رکھے۔ وہ اپنے حقیقی خیرخواہ کو پہچاننے والا ہو۔ وہ نصیحت کو قبول کرے، خواہ اس کے مزاج کے خلاف ہو۔ وہ نصیحت کو قبول کرے، خواہ وہ اس کے مزاج کے خلاف ہو۔

وہ اپنے خلاف سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ وہ مادیات سے گزر کر روحانیات کو اپنا نشانہ بنائے۔ اس کی سوچ آخرت رُخی سوچ بن جائے، وغیرہ۔ یہ تمام کام نفسیات کے سطح پر انجام پاتے ہیں۔

وہ انسان کی گہری سوچ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس آدمی کے اندر گہری سوچ نہ ہو، وہ کبھی تزکیہ کے اعلیٰ درجے تک نہیں پہنچ سکتا۔ جس آدمی کے اندر گہری سوچ ہو، اسی کے اندر تزکیہ کا عمل جاری ہوگا۔ تزکیہ دراصل نفسیاتی تزکیہ کا دوسرا نام ہے۔

تزکیہ اولا نفسیات کی سطح پر ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ ممکن ہوتا ہے کہ انسان کے پورے وجود کی سطح پر تزکیہ کا اظہار ہو۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 203۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.