Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Tazkia aur qurbaani.

Urdu · 4 min

تزکیہ اور قربانی: تزکیے کا حصول کوئی سادہ بات نہیں۔ تزکیے کے حصول کے لیے ہمیشہ ایک قربانی درکار ہوتی ہے، جسمانی قربانی نہیں بلکہ نفسیاتی قربانی۔ وہ قربانی ہے تزکیے کے حصول کی خاطر، خلافِ تزکیہ باتوں کو مکمل طور پر چھوڑ دینا۔ یہ فطرت کا ایک اصول ہے کہ ایک چیز کو پانے کے لیے دوسری چیز کو چھوڑنا پڑتا ہے۔

یہ اصول تزکیے کے معاملے میں بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ دوسرے معاملات میں۔ انہی میں سے ایک چیز ہے غلط عادتوں، یعنی بیڈ ہیبٹس، کو چھوڑنا۔ ہر عورت اور مرد اپنے ماحول کے اثر سے ایسی چیز کے عادی ہو جاتے ہیں جو تزکیے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ تزکیے کے طالب کے لیے لازم ہے کہ وہ ایسی عادتوں کو مکمل طور پر چھوڑ دے، مثلاً زیادہ بولنا اور کم سوچنا، خاندانی تقاضوں میں مشغول رہنا، کھانے اور کپڑے کا شوقین ہونا، تفریحی مجلسوں میں بیٹھنا، دوسروں کی کمیوں کا چرچا کرنا۔

شاپنگ اور آؤٹنگ کفایت شعاری کے بجائے فضول خرچی، سطحی اور نمائشی ذوق، تنقید کو برا ماننا اور تعریف پر خوش ہونا، دنیاوی چیزوں کا حریص ہونا، ضرورت پر قناعت نہ کرنا، سادگی یعنی سمپلیسٹی کے بجائے تکلف کو پسند کرنا، وغیرہ۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے، اور تزکیے کو پانے کی بھی ایک قیمت ہے، اور وہ قیمت ہے خلافِ تزکیہ باتوں کو چھوڑنا۔ جو آدمی تزکیے کی باتیں کرے لیکن وہ خلافِ تزکیہ باتوں کو چھوڑنے پر راضی نہ ہو، ایسا آدمی بلاشبہ ایک غیر سنجیدہ انسان ہے، اور غیر سنجیدہ مزاج کے ساتھ کبھی تزکیہ جمع نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی تزکیے کی طلب میں سنجیدہ ہو، وہ خود ہی یہ جان لے گا کہ کیا چیزیں تزکیے کے موافق ہیں اور کیا چیزیں تزکیے کے خلاف۔

اس کی سنجیدگی لازمی طور پر اس کو مجبور کرے گی کہ وہ موافقِ تزکیہ باتوں کو اپنائے اور خلافِ تزکیہ باتوں کو مکمل طور پر چھوڑ دے۔ سنجیدگی اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی ضرور تزکیے کے درجے تک پہنچ جائے، وہ ہرگز تزکیے سے محروم نہ رہے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 202۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.