Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Tazkiya aur ilm.

Urdu · 3 min

تزکیہ اور علم۔ تزکیے کے لیے ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ کسی صاحبِ کمال کی صحبت حاصل کی جائے، کیونکہ صاحبِ کمال کی ایک نظر انسان کو بدلنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ لیکن یہ نقطۂ نظر قرآن اور حدیث سے ثابت نہیں۔ قرآن اور حدیث کے مطابق تزکیے کا مقصد آدمی کے خود اپنے غور و فکر سے حاصل ہوتا ہے۔

آدمی کے اندر صحیح مزاج ہو، اور وہ کتابوں کا، نیز فطرت کا مطالعہ کرے، تو اس سے وہ ایسے معانی اخذ کرے گا جو اس کی شخصیت کا تزکیہ کرنے والے ہوں۔ قرآن کی سورہ فاطر میں پہاڑوں کا تذکرہ کرنے کے بعد یہ آیت آئی ہے: إِنَّمَا يَخْشَ اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ سورہ نمبر 35، آیت 28۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ پہاڑوں کا علم یا واقعاتِ فطرت کا علم، آدمی کے اندر اللہ کا خوف پیدا کرتا ہے۔ یعنی خوف کا ماخذ علم، یعنی لرننگ ہے۔

آدمی کے اندر جتنا زیادہ علم ہوگا، اتنا ہی زیادہ وہ اللہ کی تخلیقی حکمتوں کو سمجھے گا، اور اس طرح وہ اپنی معرفت میں اضافہ کرے گا۔ تزکیہ کسی آدمی کو ذاتی علم کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ مفروضہ باکمال کی نظر اور توجہ سے۔ مطالعہ آدمی کے اندر سوچنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔ مطالعہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ زیادہ گہرے انداز میں چیزوں سے معرفت کی غذا لے سکے۔

مثلاً ہر آدمی ہوا میں سانس لیتا ہے۔ ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اس پر اللہ کا شکر ادا کرے۔ لیکن جو شخص نظامِ تنفس، یعنی ریسپیریٹری سسٹم، کے بارے میں دریافت کردہ جدید معلومات کو جانتا ہو، اس کا شکر ہزاروں گنا زیادہ بڑھ جائے گا۔ اور اسی کے اعتبار سے اس کا تزکیہ بھی بہت زیادہ ترقی کرے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ علم آدمی کے تزکیے کو زیادہ بڑا فریم ورک دیتا ہے۔ علم سے آدمی کو اپنے تزکیے میں اضافے کے نئے گوشے معلوم ہوتے ہیں۔ تزکیے کے لیے علم ایک قسم کے بوسٹر کا درجہ رکھتا ہے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 198۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.