Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Distraction se bachiye.

Urdu · 4 min

ڈسٹریکشن سے بچیے۔ اس دنیا میں کامیابی کا ایک اصول یہ ہے: ایک کام کو کرنے کے لیے دوسرے کام کو چھوڑنا۔ یہ انسانی نفسیات کا ایک خاصہ ہے کہ آدمی ایک ہی وقت میں دو چیزوں پر یکساں فوکس نہیں کر سکتا۔ وہ ایک چیز پر فوکس کرے گا تو دوسری چیز سے اس کا ذہن ہٹ جائے گا۔

یہی اصول تزکیے کے لیے بھی درست ہے۔ جو آدمی اپنا تزکیہ کرنا چاہتا ہو، اس کو لازمی طور پر یہ بھی کرنا ہوگا کہ وہ تزکیے کی نسبت سے غیر متعلق، یعنی irrelevant چیزوں کو مکمل طور پر چھوڑ دے۔ تزکیے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ڈسٹریکشن ہے۔ تزکیے کے طالب کے لیے ضروری ہے کہ وہ تزکیے کو اپنا واحد نشانہ، یعنی سپریم گول بنائے۔

وہ ڈسٹریکشن کی تمام چیزوں سے مکمل طور پر اپنے آپ کو دور رکھے۔ تزکیے کے لیے ذہنی یکسوئی یا ترکیز، یعنی concentration، لازمی طور پر ضروری ہے۔ جس آدمی کے اندر ترکیز کی صلاحیت نہ ہو، وہ یقینی طور پر تزکیے کے حصول سے محروم رہے گا۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے، اور تزکیے کی بھی ایک قیمت ہے۔

وہ قیمت ہے ہر قسم کے ڈسٹریکشن سے اپنے آپ کو دور رکھنا۔ مثلاً خاندانی رسومات، دوستی کا کلچر، کھانے اور کپڑے کا شوق، دولت اور شہرت یعنی fame کی رغبت، زندگی کے تکلفات وغیرہ۔ اس قسم کی تمام چیزیں تزکیے کے طالب کے لیے ڈسٹریکشن کا درجہ رکھتی ہیں۔ جو آدمی اپنا تزکیہ چاہتا ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ اس قسم کی تمام چیزوں سے مکمل طور پر دور رہے۔

تزکیہ کسی انسان کو اعلیٰ انسان بناتا ہے۔ تزکیہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ اس کو فرشتوں کی صحبت مل جائے۔ تزکیے کے ذریعے آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ خدا کے پڑوس میں جینے لگے۔ تزکیے کے بغیر آدمی سوکھی لکڑی کی مانند ہے۔

تزکیے کے بعد آدمی ایک شاداب درخت بن جاتا ہے۔ تزکیہ کسی پراسرار چیز کا نام نہیں۔ وہ وہی چیز ہے جس کو دوسرے الفاظ میں ایمانی شعور کی بیداری کہا جا سکتا ہے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 198۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.