خاموشی اور معرفت۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ "کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طویل الصمت"۔ مسند احمد، رقم الحدیث 20311۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر خاموش رہتے تھے۔
حدیث کی کتابوں میں خاموشی، یعنی سائلنس، کی اہمیت کے بارے میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ مثلاً "علیکم بالصمت" الدارمی، رقم الحدیث 2440۔ یعنی تم لوگ خاموشی کو لازم پکڑو۔ "فلیقل خیرا اویل یصمت" مسند احمد، رقم الحدیث 6621۔
یعنی مومن کو چاہیے کہ وہ بہتر بات بولے یا وہ خاموش رہے۔ "من صمت نجا" مسند احمد، رقم الحدیث 6481۔ یعنی جو خاموش رہا، اس نے نجات پائی۔ "وأن يكون الصمت فكرا" جامع الاصول، رقم الحدیث 9317۔
یعنی یہ کہ میری خاموشی غور و فکر کی خاموشی ہو۔ خاموش رہنا صرف خاموش رہنا نہیں ہے۔ خاموش رہنے کا مطلب ہے سوچنا اور غور و فکر کرنا۔ ایک مومن جب خاموش رہے گا تو وہ اپنے رب کے بارے میں سوچے گا۔
اسی کا نام معرفت ہے۔ خاموشی معرفت کا دروازہ ہے۔ سچی خاموشی آدمی کو سچی معرفت تک پہنچاتی ہے۔ خاموشی آدمی کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ڈسٹریکشن سے بچائے۔
وہ اپنے مشاہدات اور تجربات میں توجیہ، یعنی ایکسپلینیشن، کا اضافہ کرے۔ وہ سادہ معلومات کو بامعنی معلومات بنائے۔ وہ عالمِ ظاہر سے نکل کر عالمِ باطن کا سفر کرے۔ وہ نفسیات کی سطح پر خدا اور فرشتوں سے رابطہ، یعنی کانٹیکٹ، قائم کرے۔
یہ تمام چیزیں آدمی کی معرفت میں اضافہ کرتی ہیں۔ معرفت کا ذریعہ غور و فکر ہے۔ اور خاموشی کے بغیر غور و فکر کا عمل ممکن نہیں۔ خاموشی کسی انسان کو غیرِ خدا سے دور اور خدا سے قریب کر دیتی ہے۔
خاموشی کسی انسان کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ پورے عالمِ وجود سے معرفت کی غذا حاصل کرے۔ اس کا عارفانہ سفر غیر منقطع طور پر، یعنی نان اسٹاپ، جاری رہے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 63۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.