Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Marifat-e-haq.

Urdu · 4 min

معرفتِ حق۔ قرآن کی سورہ النساء میں کہا گیا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا. سورہ نمبر 4، آیت 136۔ یعنی: اے ایمان والو!

ایمان لاؤ۔ ایمان کے بعد ایمان کیا ہے؟ اس کا جواب خود قرآن کی اس آیت میں موجود ہے: قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَا قُلُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ. سورہ نمبر 49، آیت 14۔

یعنی: اعراب نے کہا کہ ہم ایمان لائے، ان کو بتا دو کہ تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یہ کہو کہ ہم اسلام لائے، اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں کے اندر داخل نہیں ہوا۔ دونوں آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کے بعد ایمان کا مطلب یہ ہے کہ ایمان باللسان کے بعد اپنے ایمان کو داخل القلب ایمان بناؤ۔ وہ ایمان جو تمہاری پوری شخصیت میں شامل ہو جائے، جس طرح رنگ پانی کے اندر پوری طرح شامل ہو جاتا ہے۔ سورہ نمبر 2، آیت 138۔

اسی بات کو دوسرے الفاظ میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اپنے ایمان کو ایمان+ یعنی ایمانِ مزید بناؤ۔ سادہ ایمان کو ایمانِ معرفت کے درجے تک پہنچاؤ۔ اسی حقیقت کو قرآن میں ازدیادِ ایمان، سورہ نمبر 48، آیت 4 کہا گیا ہے: یعنی اپنے ایمان پر مزید ایمان کا اضافہ کرو۔ اس ایمانِ مزید کے حصول کے دو ذریعے ہیں: آیاتِ وحی اور آیاتِ کائنات۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سچے انسان کے لیے آیاتِ وحی میں تدبر کرنا، معرفتِ حق سورہ نمبر 5 آیت 53 کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح قرآن کے مطابق آیاتِ کائنات میں غور و فکر کرنے سے تبیینِ حق سورہ نمبر 41 آیت 53 کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان یا معرفتِ حق کے دو درجے ہیں: ابتدائی معرفت اور اعلیٰ معرفت۔ اسی اعتبار سے جنت کے بھی دو بڑے درجے ہیں: سورہ نمبر 55 آیت 62۔

اعلیٰ معرفت والوں کے لیے قرآن میں السابقون السابقون سورہ نمبر 56 آیت 10 کا لفظ آیا ہے، اور ابتدائی معرفت والوں کے لیے اصحاب الیمین سورہ نمبر 56 آیت 27 کا لفظ۔ معرفتِ حق کے یہی دو درجے ہیں۔ اس کے سوا معرفت کا کوئی اور درجہ نہیں۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 44۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.