قلب سلیم۔ قرآن کی سورہ الشعراء میں یہ آیت آئی ہے: «يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ». سورہ نمبر 26، آیت 89۔ قرآن کی اس آیت میں "قلب" سے مراد وہی چیز ہے جس کو عقل کہا جاتا ہے۔
"سلیم" کے لفظی معنی آلودگی سے پاک کے ہیں۔ اس اعتبار سے اس آیت میں "قلب سلیم" کا مطلب ہے بے آمیز عقل، یعنی unimpaired reason۔ جو لوگ اپنی عقل کو غیر فطری افکار کی آلودگی سے بچائیں، وہی اس دنیا میں حق کی معرفت حاصل کریں گے۔ اور ایسے ہی لوگ آخرت کی دنیا میں اللہ کی رحمت کے مستحق ٹھہریں گے۔
قلب سلیم یا عقل سلیم کسی آدمی کو فکری جدوجہد کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ ایسا آدمی آخری حد تک سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہوتا ہے کہ افکار و معلومات کے جنگل میں سچائی کو دریافت کر سکے۔ وہ اس قابل ہوتا ہے کہ چیزوں کا تجزیہ کر کے ان کو sort out کر سکے۔
وہ اس قابل ہوتا ہے کہ چیزوں کو صحیح زاویۂ نگاہ سے دیکھ سکے۔ اسی کا نام قلب سلیم یا بے آمیز عقل ہے۔ یہ عقل کسی کو عظیم قربانی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، جسمانی قربانی کے ذریعے نہیں، بلکہ فکری اور نظریاتی قربانی کے ذریعے۔ کتاب "کتابِ معرفت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 24۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.