← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Qalb aur aql
Urdu · 13 min
قلب اور عقل۔ قدیم روایتی زمانے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ تزکیہ اور معرفت کا ذریعہ قلب یعنی ہارٹ ہے، مگر جدید سائنسی تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان کا قلب صرف گردشِ خون یعنی circulation of blood کا ذریعہ ہے۔ اس کے مطابق معرفت اور تزکیہ ایک مبنی بر دماغ یعنی mind-based علم ہے، وہ مبنی بر قلب یعنی heart-based علم نہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن میں کچھ ایسے حوالے ہیں جن میں معرفت اور تزکیہ کو قلب سے منسوب کیا گیا ہے، پھر اس کا مطلب کیا ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن میں صرف قلب کا حوالہ نہیں ہے، بلکہ عقل کا حوالہ بھی قرآن میں بار بار آیا ہے، مثلاً لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ سورۃ نمبر 43 آیت 3، اور وَلِيَ تَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ سورۃ نمبر 38 آیت 29، اور إِنَّ فِي ذَٰلِكَ الْآيَاتِ لِأُولِي النُّهَى سورۃ نمبر 20 آیت 54، اور هَلْ فِي ذَٰلِكَ قَسَمُ الَّذِي حِجْرَ سورۃ نمبر 89 آیت 5 وغیرہ۔ قرآن کی ان آیتوں میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں، وہ سب عقل یعنی mind کے معنی میں ہیں۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ دونوں قسم کے قرآنی بیانات میں تطبیق کس طرح پیدا کی جائے؟ اس طرح کے معاملات میں بلاغت کا اصول یہ ہے کہ ایک کو دوسرے کے تابع قرار دیا جائے۔
اس اصول کو منطبق یعنی apply کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ کس بیان کے حق میں اضافی قرینہ یعنی additional evidence موجود ہے، اور پھر جس بیان کے حق میں اضافی قرینہ موجود ہو، اس کو اصل مان کر دوسرے کو اس کے تابع قرار دیا جائے۔ قلب اور دماغ کی اس بحث میں، دماغ کے حق میں ایک اضافی قرینہ موجود ہے، اور وہ ہے سائنس کی جدید دریافت۔ اس لیے اس معاملے میں یہ کیا جائے گا کہ جن آیتوں میں عقل کا حوالہ ہے، ان کو اس کے اصل معنی میں لیا جائے گا، اور جن آیتوں میں قلب کا حوالہ ہے، ان کو اس کے ادبی معنی یعنی literary meaning پر محمول کیا جائے گا۔ اس طرح قرآن میں استعمال کیے گئے دونوں لفظ یعنی قلب اور عقل، ہم معنی قرار پائیں گے۔
کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ قلب میں سوچنے کی صلاحیت ہے، وہ انسانی جسم کا ایک تفکیری عضو یعنی thinking organ ہے، مگر یہ صرف ایک مغالطہ ہے۔ اس دعوے کی بنیاد یہ ہے کہ ازویاتی مطالعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قلب اور عقل کے درمیان ایک رابطہ موجود ہے، مگر یہ دعویٰ صرف ایک مغالطے پر مبنی ہے۔ اس قسم کا ربط دماغ اور دوسرے تمام اعضاء کے درمیان ہمیشہ موجود رہتا ہے، مگر یہ ربط فکری ربط نہیں ہوتا، وہ صرف direction کے معنی میں ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جسم کے تمام اعضاء یعنی organs دماغ کی ہدایت یعنی direction ہی پر اپنا اپنا عمل انجام دیتے ہیں۔
کوئی بھی عضو دماغ سے آزاد ہو کر اپنا فنکشن انجام نہیں دیتا۔ اس استدلال کی غلطی یہ ہے کہ اس میں ربط کے معاملے کو بیان کرنے کے لیے ایک غلط لفظ استعمال کیا گیا ہے، یعنی communication کا لفظ۔ اس معاملے کو بیان کرنے کے لیے صحیح لفظ direction ہے، نہ کہ communication۔ دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ direction کا عمل یکطرفہ یعنی unilateral ہوتا ہے، اور communication کا عمل دو طرفہ یعنی bilateral۔
direction کا لفظ بتاتا ہے کہ دماغ یکطرفہ طور پر اعضاء کو اپنی ہدایت جاری کرتا ہے، جبکہ communication کے لفظ کا مطلب یہ ہے کہ دماغ اور جسم کے اعضاء کے درمیان یہ عمل دو طرفہ طور پر ہوتا ہے۔ مذکورہ استدلال میں یہ کیا گیا ہے کہ پہلے ربط کے لیے communication کا لفظ استعمال کیا گیا، اور پھر اس سے یہ مطلب نکال لیا گیا کہ قلب ایک تفکیری عضو یعنی thinking organ ہے، حالانکہ اس مفروضے کے لیے کوئی علمی بنیاد یعنی scientific base موجود نہیں۔ اس غلطی کا عظیم نقصان یہ ہوا کہ مبنی بر قلب معرفت کے نظریے کے حاملین عام طور پر حکمت سے محروم ہو کر رہ گئے، کیونکہ وہ حکمت کو قلب میں تلاش کر رہے تھے، جبکہ قلب میں حکمت سرے سے موجود ہی نہ تھی۔ اہلِ مذہب کے یہاں فرضی کہانیوں کا جو دفتر دکھائی دیتا ہے، اس کا سبب حکمت کی اسی کمی کی تلافی ہے۔
انسان ایک سوچنے والا حیوان یعنی thinking animal ہے۔ انسان کی تمام سرگرمیاں سوچ سے کنٹرول ہوتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انسان جیسا سوچتا ہے، ویسا ہی وہ بن جاتا ہے۔ سوچنے کی اس faculty کو ذہن یعنی mind کہا جاتا ہے۔
ذہن کے لیے قرآن میں حسبِ ذیل الفاظ آئے ہیں: عقل، لب، فؤاد، حجر، نُہَا، اور قلب۔ قلب کو عام طور پر دل کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے، مگر اسی کے ساتھ قلب کا لفظ عقل کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ عربی زبان کے مشہور لغت لسان العرب میں قلب کی تشریح کے تحت یہ الفاظ آئے ہیں: وَقَدْ يُعَبَّرُ بِالْقَلْبِ عَنِ الْعَقْلِ قَالَ الْفَرَّاءُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: إِنَّ فِي ذَٰلِكَ الْذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَيْ عَقْلٌ قَالَ الْفَرَّاءُ: وجائزٌ فِي الْعَرَبِيَّةِ أَنْ تَقُولَ مَا لَكَ قَلْبٌ وَمَا قَلْبُكَ مَعَكَ تَقُولُ مَا عَقْلُكَ مَعَكَ وَأَيْنَ ذَهَبَ عَقْلُكَ؟ لسان العرب جلد 1 صفحہ 687۔
یعنی قلب کو عقل کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ فرّا نحوی نے کہا ہے کہ قرآن کی آیت إِنَّ فِي ذَٰلِكَ الْذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ سورۃ نمبر 50 آیت 37 میں قلب سے مراد عقل ہے۔ عربی زبان میں یہ طریقہ درست ہے کہ عقل کے موقع پر قلب کا لفظ بولا جائے۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ تمہارا قلب کہاں چلا گیا؟
یعنی تمہاری عقل کہاں چلی گئی؟ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے اندر سب سے بڑی چیز ذہن یعنی mind ہے۔ قلب کا لفظ اور عقل کا لفظ دونوں اس معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ عقل کے لفظ کو لفظی طور پر ذہن کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے، اور قلب کا لفظ ادبی استعمال کے لحاظ سے ذہن کے معنی میں بولا جاتا ہے۔
موجودہ زمانے میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ قلب صرف حرکتِ خون کا مرکز ہے، اور سوچنے کا مرکز صرف دماغ ہے۔ لیکن ادبی استعمال کی بنا پر اب بھی whole-mindedly نہیں بولا جاتا، بلکہ whole-heartedly بولا جاتا ہے۔ یہی طریقہ ہر زبان میں رائج ہے۔ قرآن کا موضوع علمِ تشریح الاعضاء یعنی anatomy نہیں ہے، بلکہ قرآن کا موضوع انسان کی ہدایت ہے۔
ہدایت کا تعلق کامل طور پر تعقل اور تفقہ سے ہے۔ ایسی حالت میں قرآن میں جہاں بھی قلب کا لفظ آئے گا، تو قرآن کے موضوع کی بنا پر اس کو عقل کے معنی میں لیا جائے گا۔ قلب کا لفظ جب دو معنی میں آتا ہے، قلب کا لفظ جب دو معنی میں آتا ہے: ایک معروف طور پر دل کے معنی میں، اور دوسرے عقل کے معنی میں، تو ایسی حالت میں قرآن میں قلب کا مفہوم قرآن کے موضوع کی نسبت سے متعین ہوگا۔ قلب بمعنی دل قرآن میں قابلِ انطباق یعنی applicable نہیں ہوگا، بلکہ قرآن میں قلب بمعنی عقل ہی قابلِ انطباق قرار پائے گا۔
یہ اصول بلاغت کا ایک مسلم اصول ہے، اور یہ قرآن اور غیر قرآن دونوں کے لیے قابلِ انطباق ہے۔ مثلاً ایک کتاب جو علمِ تشریح الاعضاء یعنی anatomy پر لکھی گئی ہو، اس میں اگر کہیں قلب یعنی heart کا لفظ آتا ہے، تو وہاں قلب کے لفظ کو عقل یعنی mind کے معنی میں نہیں لیا جائے گا، بلکہ دل کے معنی میں لیا جائے گا۔ اس کے برعکس جب قرآن میں قلب کا لفظ استعمال کیا جائے، تو اس کو عقل کے معنی میں لیا جائے گا۔ علمِ تشریح الاعضاء کے موضوع پر لکھی جانے والی کتاب میں قلب کا مفہوم اس کے موضوع کی نسبت سے متعین ہوتا ہے۔
اسی طرح قرآن میں اگر قلب کا لفظ کسی آیت میں آئے، تو یہاں قلب کا مفہوم قرآن کے موضوع کی نسبت سے متعین ہوگا، یعنی اس کو عقل کے معنی میں لیا جائے گا۔ یہ بلاغت کا ایک معروف اصول ہے۔ ہر زبان میں ایسا ہے کہ اکثر کسی لفظ کے کئی معنی ہوتے ہیں۔ یہ معنی سیاق یعنی context سے متعین ہوتا ہے۔
مثلاً عربی زبان کا ایک لفظ دین ہے، جس کے کئی معنی ہوتے ہیں۔ مثلاً مالک یوم الدین سورۃ نمبر 1 آیت 3 میں یہ لفظ روز جزا کے معنی میں استعمال ہوا ہے، اور اقیم الدین سورۃ نمبر 42 آیت 13 میں یہ لفظ مذہب یعنی religion کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے، وغیرہ۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 20۔