وحدتِ وجود: شیخ محی الدین ابن العربی اندلس میں 560 ہجری میں پیدا ہوئے، اور 638 ہجری میں دمشق میں وفات پائی۔ وہ صوفی کی حیثیت سے مشہور ہیں؛ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ "كان ظاهريًا في العبادات، باطنيًا في الاعتقاد" یعنی وہ عبادات میں ظاہری تھے اور عقیدے میں باطنی تھے۔ ان کے بارے میں امام ذہبی نے لکھا ہے کہ "قدوة القائلين بوحدة الوجود" یعنی وہ وحدت الوجود کے ماننے والوں کے پیشوا ہیں۔ ابن العربی نے قرآن کی آیت "واعبد ربك حتى يأتيك اليقين" سورہ نمبر 15 آیت 99 کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے: "حَتَّى يَأْتِيَكَ حَقَّ الْيَقِينِ مُنْتَهَى عِبَادَتِكَ بِإِنْقِضَاءِ وُجُودِكَ فَيَكُونُ هَذَا الْعَابِدُ وَالْمَعْبُودُ جَمِيعًا لَا غَيْرٍ" یعنی یہاں تک کہ تجھے حق الیقین حاصل ہو، اور تیرے وجود کے ختم ہونے سے تیری عبادت بھی ختم ہو جائے۔
پھر عابد و معبود سب ایک ہوں گے، غیر نہیں۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وحدت الوجود کا نظریہ کن بے بنیاد دلائل پر قائم کیا گیا ہے۔ قرآن کی آیت کی مذکورہ تفسیر، جو ابن العربی نے کی ہے، وہ بلاشبہ ایک بے اصل تفسیر ہے؛ علمی اعتبار سے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہ تفسیر بالرائے کی ایک بدترین قسم ہے۔
اس طرح کی تفسیر کو اگر درست سمجھا جائے تو اس سے ہر بات ثابت کی جا سکتی ہے، حتیٰ کہ قرآن سے غیر قرآنی نظریہ بھی۔ وحدتِ وجود اصلًا ایک فلسفیانہ نظریہ ہے؛ فلسفیوں نے خدا اور موجودات کو ایک ثابت کرنے کے لیے وحدتِ وجود کا نظریہ پیش کیا۔ اس کو فلسفیانہ اصطلاح میں "مونزم" کہا جاتا ہے۔ بعد کو یہ نظریہ عارین مذاہب میں داخل ہو گیا۔
اس کے بعد اکثر مسلم صوفیا نے اس کو اختیار کرتے ہوئے اسلام میں داخل کر دیا۔ شیخ احمد سرہندی بظاہر وحدتِ وجود کے خلاف تھے، مگر انہوں نے وحدتِ شہود کے نام سے جو نظریہ پیش کیا ہے، وہ بھی وحدتِ وجود ہی کی ایک بدلی ہوئی شکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وحدتِ وجود یعنی مونزم کا نظریہ قرآن اور حدیث میں سرتاسر اجنبی ہے۔ وحدتِ وجود کا نظریہ ایک غیر اسلامی نظریہ ہے؛ وہ کوئی اسلامی نظریہ نہیں۔
کتاب "کتابِ معرفت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 19۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.