← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Tareekhsaaz kaarnaama
Urdu · 10 min
تاریخ ساز کارنامہ: اسلام کی تاریخ اس الزام کی تردید ہے کہ عورتیں گھر کے اندر رہ کر بڑے بڑے کام نہیں کر سکتیں۔ اگرچہ گھر کے اندر کا جو کام ہے وہ بھی بلاشبہ بڑا کام ہے، تاہم باہر کے جن کاموں کو معروف طور پر "بڑا کام" سمجھا جاتا ہے، وہ بھی یقینی طور پر عورتیں انجام دے سکتی ہیں، بغیر اس کے کہ وہ مردوں کی طرح باہر نکل آئی ہوں۔ اسلام کی تاریخ میں اس کی بہت سی مثالیں ہیں، ان میں سے ایک مثال وہ ہے جس کا ذکر پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے کیا ہے۔ یہ ایک معلوم واقعہ ہے کہ 13ویں صدی عیسوی کے آغاز میں تاتاریوں، یعنی منگولوں نے اسلامی سلطنت پر حملہ کیا اور اس کو آخری حد تک تباہ و برباد کر ڈالا، مگر اس کے بعد ایک تاریخی معجزہ پیش آیا: وہی لوگ جو اسلام کے سب سے بڑے دشمن تھے، وہ اسلام قبول کر کے اس کے پاسبان بن گئے۔
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 میں تاریخِ اسلام کے مخالا نگار نے لکھا ہے: غازان خان ریمڈ "1295-1340 was able to embrace Islam amid general acceptance by his army, and his successors were all Muslims within less than 40 years after Hulaguz Terrible Invasion. " His descendants had become patrons of Muslim culture. Encyclopedia Britannica, volume 9, page 933. منگول حکمران غازان خان زمانۂ سلطنت 1295 تا 1304 میں اسلام قبول کر لیا، اور اس کے ساتھ اس کی تمام فوج نے بھی۔
اس کے بعد اس کے تمام جانشین مسلمان تھے۔ ہلاکو کے دہشت ناک حملے کے 40 سال سے بھی کم عرصے میں، اس کی اولاد مسلم تہذیب کی سرپرست بن گئی۔ پروفیسر آرنلڈ نے لکھا ہے کہ منگول اور وحشی قبیلے جو ان کے ساتھ آئے تھے، انہوں نے آخر کار انہی مسلمانوں کے مذہب کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیا، جن کو انہوں نے اس سے پہلے اپنے پیروں کے نیچے ڈالا تھا۔ The Mongols and the Savage Tribes that followed in their wake were at length brought to submit to the fate of those Muslim peoples whom they had crushed beneath their feet.
Arnold, The Preaching of Islam, 1976, page 229. پروفیسر آرنلڈ نے تفصیل سے بتایا ہے کہ یہ دراصل عورتیں تھیں جو ان کے قبولِ اسلام کا سبب بنیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اسلام کی اشاعت کا کام صرف مردوں ہی نے نہیں کیا ہے، بلکہ مسلمان عورتوں نے بھی اس مقدس کام میں حصہ لیا ہے۔ کئی تاتاری شہزادے ایسے ہیں جنہوں نے اپنی مسلمان بیویوں کے اثر سے اسلام قبول کیا۔
غالباً یہی صورت بہت سے بت پرست ترکوں کے ساتھ پیش آئی، جبکہ انہوں نے مسلم ملکوں پر حملہ کیا۔ It is interesting to note that the propagation of Islam has not been the work of men only, but that Muslim women have also taken their part in this pious task. Several of the Mongol princes owed their conversion to the influence of a Muslim wife, and the same was probably the case with many of the pagan Turks when they had carried their raids into Muhammadan countries. Arnold, The Preaching of Islam, 1976, page 415.
اس تاریخ ساز واقعے کو ظہور میں لانے میں نہایت اہم حصہ مسلم خواتین نے ادا کیا ہے۔ تاتاریوں نے اسلامی خلافت کو برباد کیا تو انہوں نے پہلے قتل و غارت گری کی، اس کے بعد انہوں نے کثیر تعداد میں عورتوں کو گرفتار کر لیا اور ان کو اپنے گھروں میں بیویاں بنا کر رکھا۔ چنانچہ اس واقعے کے بعد اکثر تاتاری فوجیوں یا ان کے سرداروں کے گھروں میں مسلم عورتیں موجود تھیں۔ یہ مسلم عورتیں مذہبی جوش سے سرشار تھیں۔
اسلام کی حمایت کا جذبہ ان کے اندر شدت سے بھرا ہوا تھا۔ چنانچہ انہوں نے تاتاری مردوں پر خاموشی کے ساتھ اسلام کی تبلیغ کا کام شروع کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تاتاریوں کے دل اسلام کے حق میں نرم ہو گئے۔ اس کے بعد وہ یا تو گھر کی تبلیغ ہی سے مسلمان ہو گئے، یا ان کا حال یہ ہوا کہ باہر جب ان کا سابقہ مسلمانوں سے پڑتا تو معمولی تلقین سے وہ اسلام قبول کر لیتے، کیونکہ ان کے دل میں پہلے ہی سے اسلام کا بیج پڑ چکا تھا۔
یہی اکثر تاتاریوں، یعنی منگول، کا حال ہوا۔ ان کا پہلا فرمانروا جو مسلمان ہوا وہ برکا خان تھا۔ اس کا زمانۂ حکومت 1256 سے لے کر 1267 تک ہے۔ برکا خان کی ماں غالباً مسلمان تھی، اور اس نے برکا خان کی تربیت بچپن ہی سے ایک مسلمان کی طرح کی تھی۔
تخت نشینی کے بعد برکا خان کی ملاقات ایک مسلمان تاجر سے ہوئی۔ اس نے تاجر سے اسلام پر کچھ گفتگو کی اور پھر مسلمان ہو گیا۔ غازان خان کا بھائی الجایتو 1340 میں اس کا جانشین ہوا۔ اس کی بیوی مسلمان تھی۔
کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی ترغیب سے مسلمان ہو گیا۔ یہی صورت اکثر تاتاری سرداروں اور ان کے عام فوجیوں کے ساتھ پیش آئی۔ کسی تاتاری کی بیوی مسلمان تھی اور کسی تاتاری کی ماں مسلمان۔ ان مسلم خواتین نے تاتاریوں کے دلوں میں اس طرح اسلام کی عظمت بٹھائی کہ دھیرے دھیرے سب کے سب مسلمان ہو گئے۔
تقسیمِ کار کے اصول کے تحت اگرچہ عورت جسمانی طور پر زیادہ تر گھر کے دائرے میں رہتی ہے، مگر ذہنی اور قلبی طور پر وہ اس مرد کی شریکِ کار ہوتی ہے جو گھر کے باہر نکلتا ہے اور باہر کے دائرے کے کام انجام دیتا ہے۔ عورت کا تعلق مرد سے نہایت گہرا ہوتا ہے۔ وہ اس کی ساتھی، اس کی مشیر، اور اس کی غم خوار ہوتی ہے۔ اس طرح وہ ہر لمحہ مرد کے تمام کاموں کے ساتھ وابستہ ہو جاتی ہے۔
عورت اگر گھر کے کاموں کی خود نگراں ہوتی ہے تو باہر کے کاموں کی وہ مرد کے واسطے سے نگرانی کرتی ہے۔ عورت کا تعلق دنیا کے ہر کام اور زندگی کی تمام سرگرمیوں سے ہے۔ 50 فیصد معاملات میں براہِ راست طور پر، اور بقیہ 50 فیصد معاملات میں بالواسطہ طور پر۔ زندگی میں عورت کے رول کا معاملہ بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ مرد کا معاملہ۔
اس کا انحصار اس پر نہیں ہے کہ عورت کو جسمانی طور پر کہاں کھڑا کیا گیا ہے، بلکہ اس کا انحصار اس پر ہے کہ اس کو کتنا زیادہ باشعور بنایا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرد اور عورت کا فرق مقامِ عمل کے اعتبار سے ہے، نہ کہ خود عمل کے اعتبار سے۔ عورت اپنی ذات میں ایک کمزور جنس ہے، مگر وہ طاقتور جنس کی طاقت ہے۔ عورت کی اسی حیثیت میں اس کی طاقت کا راز چھپا ہوا ہے۔
کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 359.