Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Asl masala bashuoor banana

Urdu · 7 min

اصل مسئلہ باشعور بنانا ہے۔ ایک مصنف کے بارے میں اگر کہا جائے کہ وہ انسانیت کی زیادہ بڑی خدمت اس وقت انجام دے سکتا ہے جبکہ اس کو مطالعے کے کمرے سے نکال کر اکھاڑے کے میدان میں لایا جائے، تو یہ ایک احمقانہ بات ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک صاحبِ شعور ہستی ہے، انسان کی ترقی کا انحصار اس پر ہے کہ وہ اپنے کو کتنا زیادہ باشعور بناتا ہے، نہ یہ کہ جسمانی طور پر وہ کس میدان میں اپنے آپ کو دوڑا رہا ہے۔ یہی بات مرد کے بارے میں صحیح ہے، اور یہی بات عورت کے بارے میں بھی درست ہے۔

افریقہ میں کئی ملک ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، مگر عملاً وہاں کی سیاست اور تجارت پر عیسائی چھائے ہوئے ہیں۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ عیسائی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ قوم ہے، اور مسلمان ابھی تک تعلیم میں آگے نہ بڑھ سکے۔ عورت کو ترقی دینے کا اصل راز یہ نہیں ہے کہ اس کو زندگی کے ہر میدان میں داخل کیا جائے، بلکہ اس کا اصل راز یہ ہے کہ عورت کو صاحبِ علم اور صاحبِ شعور بنایا جائے۔ عورت جتنا زیادہ باشعور ہوگی، اتنا ہی زیادہ بڑا کام وہ اس دنیا میں انجام دے سکے گی۔

عورت اگر حقیقی معنوں میں باشعور ہو تو گھر کے اندر رہ کر بھی وہ انتہائی بڑے بڑے کام انجام دے سکتی ہے، اور اگر وہ بے شعور ہو تو وہ کوئی بھی بڑا کام نہیں کر سکتی، خواہ اس کو سب سے بڑے چوراہے پر کیوں نہ کھڑا کر دیا گیا ہو۔ تاریخ میں ایسی بہت سی عورتیں گزری ہیں جو عملاً گھر کے اندر رہیں، مگر باہر کی دنیا پر انہوں نے اپنے زبردست اثرات ڈالے۔ انہی میں سے ایک نور جہاں ہے، جو مغل حکمران جہانگیر کی بیوی تھی۔ جہانگیر نے اس کے بیوہ ہونے کے بعد 1611 عیسوی میں اس سے شادی کی۔

قدیم رواج کے مطابق نور جہاں زیادہ تر شاہی محل کے اندر رہتی تھی، مگر تمام مؤرخین نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے محل کے باہر کے امور میں جہانگیر کے واسطے سے زبردست اثرات ڈالے۔ نور جہاں نے اگرچہ کئی حماقتیں کیں، اس کی سب سے بڑی حماقت یہ تھی کہ اس نے یہ کوشش کی کہ اس کا داماد، یعنی شہریار، جہانگیر کے بعد مغل تخت کا وارث ہو۔ جہانگیر کے تین لڑکے تھے، ان میں شہزادہ خرم، یعنی شاہجہاں، نہایت لائق تھا۔ چنانچہ جہانگیر اسی کو اپنا سیاسی وارث بنانا چاہتا تھا، مگر نور جہاں نے سازش کی کہ جہانگیر کا چھوٹا لڑکا شہریار، یعنی جو نور جہاں کا داماد تھا، وہ جہانگیر کا وارث بنے۔

اس کے نتیجے میں آپس میں لڑائی ہوئی اور زبردست خرابیاں پیدا ہوئیں۔ تاہم اس خاص پہلو سے خطِ نظر نور جہاں کی مثال یہ ثابت کرتی ہے کہ عورت اگر لائق ہے تو وہ باہر کے امور پر کتنا زیادہ اثر انداز ہو سکتی ہے۔ نور جہاں کے بارے میں یہ ثابت شدہ ہے کہ وہ خاتونِ خانہ تھی، اس کے باوجود اس نے بیرونی کارنامے انجام دیے۔ نور جہاں کے بارے میں مؤرخین نے جو کچھ لکھا ہے، ان میں سے صرف ایک اقتباس ہم یہاں نقل کریں گے: انسائیکلوپیڈیا برٹانی کا 1984 کا مقالہ نگار لکھتا ہے: "Noor Jahan enjoyed great influence and authority, and became a power behind the throne.

" نور جہاں exercised a strong influence on her husband and looked after him with unparalleled care and devotion. Under her influence, Jahangir restrained himself from excessive drinking. She relieved him of much of the drudgery of administrative routine and anxiety. She enhanced the splendor of the Mughal court and ably seconded the efforts of her husband in patronizing learning and art, and disbursing charity.

انسائیکلوپیڈیا برٹانی کا، والیوم 9، پیج 383۔ نور جہاں کو زبردست اثر اور اقتدار حاصل تھا، وہ تخت کے پیچھے ایک طاقت بن گئی۔ نور جہاں نے اپنے شوہر، یعنی جہانگیر، پر زبردست اثر ڈالا، اور بے مثال توجہ اور جان نثاری کے ساتھ اس کی خبرگیری کرتی رہی۔ نور جہاں کے زیرِ اثر جہانگیر نے اپنی شراب نوشی میں کمی کر دی۔

اس نے جہانگیر کو بہت سی انتظامی مشقتوں اور پریشانیوں سے نجات دے دی۔ اس نے مغل دربار کی عظمت بڑھائی، اور علم اور آرٹ اور خیراتی امور میں اپنے شوہر کی کوششوں کی نہایت قابلیت کے ساتھ مدد کی۔ کتاب "خاتونِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 357۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.