اطاعت۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ نیک بخت عورتیں قانطات، سورہ نمبر 4 آیت 34، ہوتی ہیں۔ قانطات کی تشریح حضرت عبداللہ ابن عباس نے "المطيعة لأزواجهن" کے لفظ سے کی ہے، یعنی نیک بخت عورتیں اللہ کی نظر میں وہ ہیں جو اپنے شوہروں کی فرمانبردار ہوں۔ یہ اس تقسیم کا فطری تقاضا ہے جس کے تحت مرد کو خاندانی نظام میں قوام بنایا گیا ہے۔
ملک کا حکمران ملک کے نظام کو اسی وقت درست طور پر چلا سکتا ہے جبکہ ملک کے عوام حکمران کی اطاعت کرنے پر راضی ہوں۔ اگر عوام اطاعت نہ کریں تو بہتر سے بہتر حکمران بھی ملک کے نظام کو درست کرنے میں ناکام رہے گا۔ یہی معاملہ گھر کے نظام کا بھی ہے۔ گھر کسی قوم کی وسیع تر اجتماعیت کی ابتدائی وحدت ہے۔
چھوٹی چھوٹی وحدتیں جب درست ہوں گی، اسی وقت بڑی اجتماعیت درست ہو سکتی ہے۔ اس لیے انتہائی ضروری ہے کہ گھر کے اندر اطاعت اور موافقت کی فضا ہو۔ عورت کو بلاشبہ اختلاف اور مشورے کا حق ہے، مگر جب مرد ایک بات کا فیصلہ کر دے تو عورت کے اوپر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ پوری وفاداری کے ساتھ مرد کے فیصلے کی پابند بن جائے۔ مرد باہر کی دنیا کے تجربات کی بنا پر نسبتاً وسیع ذہن کے ساتھ سوچتا ہے۔
اس کے طرز فکر میں حقیقت پسندی ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں عورت کی سوچ میں اکثر محدودیت آ جاتی ہے۔ وہ جذباتیت کا شکار ہونے لگتی ہے۔ یہ ایک حد تک عورت کے پیدائشی مزاج اور اس کے دائرہ کار کا خاصہ ہے۔
تاہم عورت کے اندر اپنی اس کمی کا احساس ہونا چاہیے۔ وہ مرد کو مشورہ دے سکتی ہے، مگر مرد کے مقابلے میں بے لچک اصرار اس کے لیے درست نہیں۔ گھر کا نظام ایک چھوٹی سی جمہوریت ہے، مگر ہر جمہوریت کا ایک لیڈر ہوتا ہے۔ اور گھر کی جمہوریت کا لیڈر اسلامی شریعت نے مرد کو بنایا ہے۔
کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 274۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.