Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Ulti taraf safar

Urdu · 11 min

الٹی طرف سفر: امریکہ کا انگریزی ہفتہ وار ٹائم، نہایت کثیرالاشاد میگزین ہے۔ وہ 95 ملکوں میں پڑھا جاتا ہے۔ اس میگزین نے اپنی اشاعت 26 جنوری 1987 میں امریکہ کے بارے میں ایک دلچسپ رپورٹ شائع کی ہے۔ یہاں ہم اس کا خلاصہ درج کرتے ہیں: پچھلے 25 سال کے اندر امریکہ میں خاتون کارکنوں کی تعداد بہت بڑھی ہے۔

امریکہ میں اس وقت بچہ پیدا کرنے کی عمر کی خواتین کی 65% تعداد دفتروں میں کام کرتی ہیں۔ ان میں سے 90% عورتیں وہ ہیں جو کارکردگی کے دوران حاملہ پائی گئی ہیں۔ عورتوں کے لیے یہ زبردست مسئلہ ہے: کام کا بھاری بوجھ اٹھانا، اور اسی کے ساتھ بیک وقت بچوں کی ماں بننا۔ This has created یہ tremendous problem for women.

The onerous task of holding down a job and having children at the same time. اسی قسم کی ایک امریکی خاتون، لِلِین گالینڈ، ہے۔ وہ کیلیفورنیا کی ایک کمپنی میں بطور ریسپشنسٹ کام کر رہی تھی۔ ملازمت کے دوران وہ حاملہ ہو گئی، چنانچہ اس نے 1982 میں عارضی طور پر دفتر سے چھٹی لے لی۔

اس کے یہاں بچی پیدا ہوئی۔ ڈاکٹر نے اس کو مشورہ دیا کہ وہ 3 مہینے تک دفتر نہ جائے۔ اس نے ایسا ہی کیا، مگر 3 مہینے کے بعد جب وہ دوبارہ دفتر آئی تو اس کو بتایا گیا کہ اب کمپنی میں اس کے لیے جگہ نہیں ہے۔ اس کی جگہ دوسرے کارکن کے ذریعے پر کر لی گئی تھی۔

گالینڈ نے 850 ڈالر ماہانہ کی سروس کھو دی۔ وہ ایسے وقت میں بے روزگار ہو گئی جبکہ بچی کی پیدائش کے نتیجے میں اس کے اخراجات کافی بڑھ چکے تھے۔ اس نے امریکہ کی فیڈرل کورٹ میں اپیل کی کہ کمپنی نے اس کو ملازمت سے برخاست کر کے اس کے ساتھ امتیاز، یعنی ڈسکریمینیشن، کا برتاؤ کیا ہے۔ مقدمہ چلتا رہا۔

گالینڈ کے وکیل اور کمپنی کے وکیل نے ایک دوسرے کے خلاف دلائل پیش کیے۔ یہاں تک کہ 5 سال بعد، جنوری 1987 میں، امریکی سپریم کورٹ کے جسٹس تھرگڈ مارشل نے فیصلہ دیا کہ خاتون کارکن اگر حاملہ ہو جائے تو جس ادارے میں وہ کام کر رہی ہے، اس کو چاہیے کہ وہ اس کو 4 مہینے کی باضابطہ رخصت دے۔ اس فیصلے نے امریکہ میں زبردست بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف آزادی نسواں کی حامی، دوسری طرف امریکہ کے سنجیدہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ فیصلہ خواتین کے لیے مضر ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ اس قسم کا تحفظ صرف خواتین کے حق میں امتیاز کو بڑھانے والا ثابت ہوتا ہے۔ یہ تدبیر ایسی ہے جو ہمیشہ الٹا نتیجہ ظاہر کرتی ہے۔ That almost always backfires لاس اینجلس کی مرچنٹس اینڈ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر، مسٹر ڈون بٹلر، نے کہا کہ یہ فیصلہ ایک مہلک فیصلہ ہے۔ اگر کمپنیوں کو اس طرح حاملہ خواتین کو 4 مہینے کی باضابطہ رخصت دینی پڑے تو وہ دیوالیہ پن، یعنی بینکرپسی، کا شکار ہو جائیں گی۔

امریکی چیمبر آف کامرس کے اٹارنی لیم نے کہا کہ اس طرح عورت کے خلاف امتیاز اور بڑھ جائے گا۔ اس لیے کہ بہت سی کمپنیاں یہ نہ چاہیں گی کہ وہ بچہ پیدا کرنے کی عمر میں عورتوں کو اپنے یہاں ملازم رکھیں۔ Discrimination against women might increase. Many companies just won't hire women in their childbearing years.

Says the Chambers Attorney Lamb, page 21. گالینڈ کے مذکورہ معاملے کی حمایت میں ایک مشہور خاتون لیڈر، بیٹی فریڈن، نے کہا کہ عورت اور مرد کے درمیان برابری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورتیں مردوں کے نمونے پر پوری اتریں۔ Equality does not mean that women have to fit the male model. یہ دلیل بھی کیسی عجیب ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب عورتیں اپنی فطری ساخت کے اعتبار سے اتنی مختلف ہیں کہ وہ مردوں کے ماڈل کے مطابق نہیں بن سکتیں، تو اس عجیب و غریب صنفی برابری کی کیا ضرورت ہے کہ عورتوں کو مردوں کی طرح ہر جگہ کام کے لیے کھڑا کر دیا جائے؟ اور پھر جبری قوانین کے ذریعے اس مصنوعی برابری کو قائم رکھا جائے۔ اسی طرح سیلویا این ہیولٹ نے کہا کہ امریکہ کی عدالت عالیہ کے اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ اعلیٰ ترین قانونی سطح پر اس حقیقت کا اعتراف کر لیا گیا کہ عورتوں کو دفاتر میں برابری کا مقام دلانے کے لیے ایک خاندانی سپورٹر کو وجود میں لانا ہوگا۔ This decision means that there is recognition at the highest legal levels that in order to get equal status for women in the workplace, you have to create family supporters.

Page 21. یہ قدیم روایتی نظام کی معقولیت کا بالواسطہ اعتراف ہے۔ جدید تہذیب نے یہ معیار پیش کیا تھا کہ مرد کو عورت کا سپورٹر نہ ہونا چاہیے، بلکہ عورت خود کمائے اور خود اپنی سپورٹر بنے۔ مگر جب اس اصول کو عمل میں لایا گیا تو معلوم ہوا کہ عورت سپورٹر کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔

فرق صرف یہ ہے کہ پہلے اس سپورٹر کا نام شوہر تھا، اور اب اس سپورٹر کا نام کمپنی ہے۔ قدیم روایتی ماحول، جو مذہب کے زیر اثر بنا تھا، اس میں مرد بنیادی طور پر باہر کا کام کرتے تھے اور عورتیں بنیادی طور پر گھر کا کام۔ یہ دراصل ایک طرح کی تقسیمِ کار تھی۔ مگر جدید تہذیب نے اس کے متعلق کہا کہ یہ ایک صنف اور دوسری صنف کے درمیان امتیاز ہے۔

چنانچہ زور و شور کے ساتھ آزادی نسواں کی تحریک چلی۔ عورتوں کو گھروں سے نکال کر دفتروں اور کارخانوں میں ڈال دیا گیا۔ مگر بہت جلد معلوم ہوا کہ اس نئے انتظام میں مختلف قسم کی رکاوٹیں حائل ہیں۔ مثال کے طور پر عورت کا معاملہ یہ ہے کہ وہ حاملہ ہوتی ہے، وہ بچہ پیدا کرتی ہے، اور پھر ایک مدت تک وہ باہر کے کام کے قابل نہیں رہتی۔

اس مشکل کے حل کے لیے قانون بنایا گیا کہ عورت کو حمل اور رضاعت کے دوران خصوصی چھٹی دی جائے۔ مگر اس قسم کا لفظی کھیل صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جو قانون ساز مجالس میں بیٹھ کر قانون بناتے ہیں۔ اس اصول کا تحمل وہ لوگ نہیں کر سکتے جن کو عملاً ایک کارخانہ چلانا ہے یا ایک دفتر کا انتظام کرنا ہے۔ چنانچہ اب مالکوں اور خاتون ملازموں کے درمیان لامتناہی جھگڑے چھڑ گئے ہیں۔

حکومتی ادارہ اب تک اس نظام میں بظاہر خواتین کا ساتھ دے رہا ہے تاکہ اس کے تہذیبی اصول کی عظمت باقی رہے، مگر حقیقت کے خلاف یہ جانبداری قابلِ عمل نہیں۔ حکومت اگر دفتروں اور کارخانوں سے کہے کہ وہ خاتون کارکنوں کو 4 ماہ کی با تنخواہ چھٹی دیں، تو کون ادارہ اس تہذیبی تعیش کو برداشت کر سکتا ہے؟ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اداروں میں یہ رجحان بڑھے گا کہ جوان عورتوں کو ملازمت میں نہ لیا جائے، اور جب عورتیں بوڑھی ہو چکی ہوں گی تو وہ اپنے آپ ملازمتوں میں جانے سے رک جائیں گی۔ اس طرح مغربی سوسائٹی میں وہی چیز شدید تر صورت میں پیدا ہو جائے گی جس کو ختم کرنے کے لیے آزادی نسواں کی تحریک چلائی گئی تھی، یعنی صنفی امتیاز۔

کتاب خاتون اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 128۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.