Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Tahzeeb-e-jadeed ke nataaij

Urdu · 5 min

تہذیبِ جدید کے نتائج: مغربی سماج میں اگر بگاڑ ہے تو مسلمانوں کے موجودہ سماج میں بھی بگاڑ ہے۔ اس کے باوجود آپ مغربی تہذیب کو غلط اور اسلام کو صحیح کیسے کہتے ہیں؟ ایک شخص نے کہا: "مگر یہ اعتراض درست نہیں، اس لیے کہ جس اعتبار سے ہم مغربی تہذیب اور اسلام کے درمیان تقابل کر رہے ہیں، اس میں دونوں کے درمیان ایک واضح فرق ہے۔ " مسلم سماج کا بگاڑ اسلام سے انحراف کا نتیجہ ہے، جبکہ مغربی سماج کا بگاڑ عین اس کے اصولوں پر عمل کرنے کا نتیجہ۔

مسلمانوں کے درمیان جو بگاڑ ہے، وہ اصول اور عمل کے درمیان فرق ہو جانے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، جبکہ مغربی سماج کا بگاڑ اصول اور حقیقتِ واقعہ کے درمیان ٹکراؤ کا نتیجہ ہے۔ جدید مغربی تہذیب نے معاشرتی زندگی کے بارے میں مذہبی اصولوں کے بالمقابل کچھ دوسرے اصول وضع کیے، اور قدیم اصول کے مقابلے میں جدید اصول کی معقولیت کا دعویٰ کیا۔ اس کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ زمین کے قابلِ لحاظ حصے پر مغربی اقوام کا سیاسی اور مادی غلبہ قائم ہو گیا۔ انہیں یہ حیثیت حاصل ہو گئی کہ وہ قدیم اصولِ حیات کو رد کر کے جدید اصولِ حیات کی بنیاد پر انسانی معاشرے کی تشکیل کریں۔

مغربی اقوام کے غلبے کے ساتھ ہی یہ عمل شروع ہو گیا۔ اب اس تجربے پر 100 سال سے زیادہ مدت گزر چکی ہے، مگر عملی تجربہ اصول کی صداقت کو ثابت نہ کر سکا۔ اس تجربے نے نہ صرف یہ بتایا کہ مغرب نے انسانی زندگی کے جو نئے اصول وضع کیے تھے، وہ فطرت سے مطابقت نہ رکھتے تھے؛ اصول اور حقیقتِ واقعہ کا یہ ٹکراؤ بہت جلد ظاہر ہو گیا۔ مغربی زندگی میں شدید قسم کی ابتری پیدا ہو گئی، جس میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

مسلم سماج میں آج جو بگاڑ پایا جاتا ہے، اس کا حل یہ ہے کہ مسلم سماج کو سابقہ اسلامی اصولوں کی طرف لوٹایا جائے۔ مگر یہی بات مغرب کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی۔ مغرب کا سماج اگر پیچھے کی طرف لوٹایا جائے تو اس کا لوٹنا عین انہی اصولوں کی طرف لوٹنا ہوگا جن پر آج بھی وہ پوری طرح قائم ہے۔ جن لوگوں نے آزادانہ جنسی اختلاط کا نظریہ پیش کیا، یا جنہوں نے عورت کو ہر مردانہ شعبے میں داخل کرنے پر اصرار کیا، یا جنہوں نے یہ کہا کہ نکاح کا ادارہ ایک غیر ضروری بندھن ہے، وہ آخر اپنے اصولوں کی طرف لوٹیں تو کس چیز کی طرف لوٹیں گے؟

وہ اسی چیز کی طرف لوٹیں گے جس پر آج بھی وہ قائم ہیں، اور جس کے ہولناک نتائج سے وہ بالفعل دوچار ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے بگاڑ کا حل یہ ہے کہ وہ اسلام کے چھوڑے ہوئے اصول کو دوبارہ اختیار کریں، جبکہ مغربی معاشرے کے بگاڑ کا حل یہ ہے کہ وہ اپنے اختیار کردہ اصول کو ترک کر دے۔ اس معاملے کی مزید وضاحت کے لیے یہاں ہم کچھ واقعاتی مثالیں پیش کریں گے۔ کتاب: خاتونِ اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 127۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.