Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Shohrat bojh bangai

Urdu · 6 min

شہرت بوجھ بن گئی۔ فرانس کی سینما کی تاریخ میں جس خاتون نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی، وہ بی بی— یعنی بریگزٹی بارڈوٹ— غیژی غیژی تو باغدو ہے۔ وہ 1934 میں پیدا ہوئی۔ فلمی دنیا میں، بعض اعتبار سے، اس نے میریلین منرو اور مارلین ڈیٹرچ سے بھی زیادہ بڑا مقام حاصل کیا۔

جونا پارک کے بعد وہ فرانس کی سب سے زیادہ شہرت یافتہ خاتون شمار ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بی بی کے ذریعے باہر کی جو دولت فرانس میں آئی، وہ اس سے بھی زیادہ ہے جو مشہور رینالڈ موٹر کمپنی کے ذریعے فرانس میں آئی۔ ٹونی کرالی نے 1958 کے آخر میں اندازہ لگایا تھا کہ اس کی تصویریں یورپ اور امریکہ کے جرائد کے صفحے اول پر 29,345 بار چھپ چکی ہیں۔ ریڈرز ڈائجسٹ، مئی 1986۔

بی بی کی فلم پر فلم بنتی رہی۔ اس کی مقبولیت اتنی بڑھی کہ بعض اوقات وہ اپنے گھر سے نکلنے میں صرف اس لیے کامیاب نہ ہو سکی کہ اس کے گھر کے باہر فوٹوگرافروں کی ناقابلِ عبور فوج کھڑی ہوئی تھی۔ اس کے نام روزانہ اتنے زیادہ خطوط آتے تھے کہ ان کی منتخب تعداد کو پڑھنا بھی اس کے لیے ناممکن تھا۔ ان تمام ظاہری رونقوں کے باوجود، اندر سے وہ سخت غیر مطمئن تھی، حتیٰ کہ اس کی شہرت اس کے لیے ایک بوجھ بن گئی۔

اس نے خودکشی کے ارادے سے ایک رات بہت زیادہ مقدار میں خواب آور گولیاں کھا لیں۔ One night, worn out by her own fame. Brigitte Ghisito swallowed an overdose of tranquilizers. تاہم وہ مر نہ سکی، اس وقت بھی جب کہ وہ نازک حالت میں پیرس کے ایک ہسپتال میں لے جائی جا رہی تھی۔

فوٹوگرافروں نے ایمبولینس کار کو زبردستی راستے میں روکا تاکہ وہ اس کا فوٹو لے سکیں۔ بی بی کے بارے میں ایک رپورٹ میں اس کا تاثر بتایا گیا تھا کہ کیمرے کے سامنے اس نے کبھی سکون محسوس نہیں کیا۔ She never really felt at ease in front of the camera. 39 سال کی عمر میں، جب کہ وہ تقریباً 50 کامیاب فلمیں بنا چکی تھی، اس نے اچانک اپنا کیریئر ختم کر دیا۔

وہ فلمی دنیا سے بالکل بے تعلق ہو گئی۔ اس نے اپنی شاندار رولس رائس کار فروخت کر دی اور اپنے مکان میں تنہا رہنے لگی، جہاں وہ ایک معمولی انسان کی طرح خاموش زندگی گزار سکے۔ She sold her Rolls-Royce and went to live alone in her house on the Riviera, to seize to be considered a beautiful object and become a human being like any other, she said. حقیقت یہ ہے کہ گھر کے باہر کی دنیا میں ہیرو بننا اور ہر طرف شہرت حاصل کرنا عورت کی فطرت کے سراسر خلاف ہے۔

عورت فطری طور پر خانہ پسند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مصنوعی میدانوں میں شہرت پانے والی عورتیں اپنے کیریئر کے درمیان میں یا اس کے آخر میں خانہ نشین ہو جاتی ہیں۔ وقتی چمک دمک کے بعد بالآخر ان کو جہاں سکون ملتا ہے، وہ ان کا گھر ہے، نہ کہ ان کا باہر۔ عورت کے بارے میں اسلام کا قانون عورت کی اسی فطرت کی رعایت ہے، نہ کہ عورت کے اوپر کوئی ظلم۔

وہ مقام جہاں ایک عورت ناکام تجربے کے بعد پہنچتی ہے، اسلام چاہتا ہے کہ وہ اپنے آزاد ارادے کے تحت خود اپنے انتخاب کے ذریعے وہاں پہنچے۔ کتاب "خاتون اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 121۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.