خودکشی کر لی، میریلین منرو، امریکہ کی ایک انتہائی مشہور خاتون ہے۔ اس نے اولاً فوٹوگرافر کے ماڈل کی حیثیت سے اپنی زندگی کا آغاز کیا، اس کے بعد وہ اپنی غیر معمولی نسوانی کشش کی بنا پر فلم کی دنیا کی ہیرو بن گئی۔ اس کو "جنسی دیوی" یعنی سیکس گاڈیس کہا جانے لگا، اس کی فلموں کو زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ جہاں کہیں اس کا کوئی شو ہوتا تو بے شمار تماشائی اس کو دیکھنے کے لیے جمع ہو جاتے۔
میریلین منرو کا آخری فلم "بے جوڑ" یعنی The Misfit تھا، فلم کا یہ عنوان گویا خود اس کی اپنی زندگی کا بھی عنوان تھا۔ وہ اپنے کو بے جگہ پا رہی تھی؛ انسانی سمندر کے درمیان وہ نفسیاتی طور پر تنہا ہو کر رہ گئی تھی۔ بظاہر اس کی ہنستی ہوئی تصویریں اخباروں اور رسالوں میں چھپتی تھیں، مگر اندر سے وہ اپنے آپ کو مستقل طور پر افسردگی یعنی ڈپریشن میں محسوس کرتی تھی۔ آخر کار وہ اس نفسیاتی عذاب کو برداشت نہ کر سکی۔
5 اگست 1962 کو اس نے بیک وقت بہت سی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی۔ موت کے وقت اس کی عمر صرف 36 سال تھی۔ اس قسم کی عورتوں کا عام حال یہ ہے کہ وہ اسٹیج پر خوش دکھائی دیتی ہیں، مگر ان کا دل مستقل طور پر روتا ہے۔ ان کی زندگی بڑی مظلومی کی زندگی ہوتی ہے؛ وہ سب کی ہوتی ہیں، مگر کوئی ان کا نہیں ہوتا۔
وہ دوسروں کو خوش کرتی ہیں، مگر ان کو یہ احساس ستاتا رہتا ہے کہ کوئی نہیں جس کے ساتھ وہ اپنی خوشی کے لمحات گزار سکیں۔ مجلسی تقریبات میں بظاہر ان کی شخصیت ایک معمول شخصیت دکھائی دیتی ہے، مگر اپنی حقیقی دنیا میں وہ اپنے آپ کو بالکل خالی محسوس کرتی ہیں۔ ابتدائی شاندار زندگی آخر کار ایک غیر شاندار زندگی پر ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تنہائی کی زندگی عورت کے مزاج کے سراسر خلاف ہے۔
عورت تنہائی کا تحمل نہیں کر سکتی، مگر مغربی تہذیب کا راستہ عورت کو آخر کار جہاں پہنچاتا ہے، وہ یہی تنہائی کی زندگی ہے۔ اس کے برعکس، اسلام عورت کو ایک ایسی زندگی کی طرف لے جاتا ہے جہاں وہ تنہا نہیں ہوتی، بلکہ ایک پورے خاندان کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اسلام کا طریقہ فطری طریقہ ہے، اور مغربی تہذیب کا طریقہ غیر فطری طریقہ۔ کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 118۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.