← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Dibaacha
Urdu · 13 min
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ دی باچا: انگریز مستشرخ ایڈورڈ ولیم لین، 1801 تا 1876 عیسوی، نے "قرآن" کے منتخب حصّوں کا انگریزی ترجمہ تیار کیا تھا۔ یہ ترجمہ پہلی بار لندن سے 1843 میں چھپا۔ اس ترجمے کے ساتھ ایک دیباچہ شامل تھا۔
اس دیباچے میں فاضل مترجم نے اسلامی تعلیمات کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلام کا تباہ کن پہلو عورت کو حقیر درجہ دینا ہے۔ The fatal point in Islam is the degradation of women. ایڈورڈ ولیم لین، Selections from Quran, London, 1982۔ یہ بات اتنی عام ہوئی کہ ہر شخص بے تکلف اس کو دہرانے لگا۔
اس بیان پر اب تقریباً 150 سال گزر چکے ہیں، مگر ابھی تک لوگوں کے یقین میں کوئی فرق نہیں آیا۔ ہندوستان کے سابق چیف جسٹس مسٹر مسٹر چندرا چوڑ نے محمد احمد شاہ بانو کیس میں 1975 میں جو فیصلہ دیا ہے، اس میں بھی اس بیان کو اس طرح بے تکلف دہرایا گیا ہے جیسے کہ وہ کوئی مسلمہ حقیقت ہو۔ عورت کے بارے میں اسلام کے نقطۂ نظر کو درجہ گرانے، degradation سے تعبیر کرنا، اصل بات کو بگاڑ کر پیش کرنا ہے۔ عورت کے بارے میں اسلام کا کہنا یہ نہیں ہے کہ وہ مرد سے کم ہے۔
اسلام کا کہنا صرف یہ ہے کہ عورت مرد سے مختلف ہے۔ یہ ایک دوسرے کے مقابلے میں فرق کا معاملہ ہے، نہ کہ ایک کے مقابلے میں دوسرے کے بہتر ہونے کا۔ Not better, but different. ایک ڈاکٹر اپنے مریض سے کہتا ہے کہ آنکھ تمہارے جسم کا نہایت نازک حصہ ہے۔
تم اپنی آنکھ کے ساتھ وہ معاملہ نہیں کر سکتے جو، مثال کے طور پر، تم اپنے ناخن کے ساتھ کرتے ہو۔ اپنی آنکھ کے معاملے میں تم کو زیادہ محتاط رویہ اختیار کرنا پڑے گا۔ ڈاکٹر کی اس ہدایت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ناخن کے مقابلے میں آنکھ کو کمتر درجہ دے رہا ہے، بلکہ وہ ناخن کے مقابلے میں آنکھ کے فرق کو بتا رہا ہے۔ عورت اور مرد کے بارے میں اسلام میں جو قوانین ہیں، وہ سب اسی اصولی حقیقت پر مبنی ہیں کہ عورت اور مرد الگ الگ صنفیں ہیں۔
تخلیقی اعتبار سے دونوں کے اندر قطعی فرق پائے جاتے ہیں، اس لیے خاندانی اور سماجی زندگی میں دونوں کا دائرۂ عمل ایک نہیں ہو سکتا۔ جب دونوں صنفوں کے درمیان حیاتیاتی بناوٹ کے اعتبار سے فرق ہے، تو ان کے درمیان عمل کے اعتبار سے بھی لازماً فرق ہونا چاہیے۔ عورت کے بارے میں یہی تمام آسمانی مذاہب کا نقطۂ نظر رہا ہے۔ پچھلی ہزاروں برس کی تاریخ میں کبھی اس پر شبہ نہیں کیا گیا۔
دورِ جدید میں آزادیِ نسواں کی تحریک، یعنی Women's Liberation Movement، نے پہلی بار دنیا میں یہ ذہن پیدا کیا کہ عورت اور مرد دونوں یکساں ہیں، اور دونوں کو ہر میدان میں بالکل یکساں کام کے مواقع ملنے چاہییں۔ یہ تحریک سب سے پہلے برطانیہ میں 18ویں صدی میں اٹھی، اور اس کے بعد پورے یورپ اور امریکہ میں پھیل گئی۔ میری ووسٹن کرافٹ نے 1792 عیسوی میں ایک کتاب چھاپی جس کا نام تھا "Evindication of the Rights of Women"۔ اس کتاب کا خلاصہ یہ تھا: Women should receive the same treatment as men in education, work opportunities and politics, and that the same moral standards should be applied to both sexes.
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، volume 10، page 733۔ تعلیم، روزگار اور سیاست کے میدان میں عورتوں کو وہی مواقع ملنے چاہییں جو مردوں کو حاصل ہیں۔ ایک ہی اخلاقی معیار ہونا چاہیے جو دونوں صنفوں پر منطبق کیا جائے۔ اس بات کو اتنے زور و شور کے ساتھ اٹھایا گیا کہ ہر طرف اس کا غلغلہ برپا ہو گیا۔
مرد اور عورت دونوں اس میں یکساں طور پر شریک تھے، حتیٰ کہ عورت اور مرد کے درمیان نابرابری کی بات کرنا پسماندگی کی علامت قرار پایا۔ 20ویں صدی کے آغاز تک یہ فکر ساری دنیا میں چھا چکا تھا۔ اب اسی کے مطابق قوانین بنائے گئے، اسی کے مطابق ہر شعبہ مردوں کی طرح عورتوں کے لیے کھول دیا گیا، وغیرہ وغیرہ۔ مگر عملاً یہ تجربہ سراسر ناکام ثابت ہوا ہے۔
تقریباً 200 سالہ جدوجہد کے بعد بھی اب تک عورت کو مرد کے برابر کا درجہ حاصل نہ ہو سکا۔ عورت آج بھی تمام شعبۂ حیات میں اسی طرح پیچھے ہے جس طرح وہ آزادیِ نسواں کی تحریک سے پہلے پیچھے تھی۔ اس تحریک کا عملی نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہوا کہ عورت گھر سے باہر آ گئی۔ وہ ہر جگہ مردوں کے ساتھ چلتی پھرتی نظر آنے لگی۔
عورت نے اپنی نسوانیت کھو دی، مگر اس کی قیمت میں اس کو وہ چیز نہیں ملی جس کے لیے اس نے اپنی نسوانیت کھوئی تھی، یعنی زندگی کے تمام شعبوں میں مردوں کے برابر مقام۔ آزادیِ نسواں کی تحریک کی اس مکمل ناکامی نے دوبارہ لوگوں کو اس مسئلے کی تحقیق پر آمادہ کیا۔ ساری دنیا میں خالص سائنسی انداز میں اس کا مطالعہ شروع ہو گیا۔ آخر کار یہ ثابت ہوا کہ عورت اور مرد کے درمیان تخلیقی فرق ہے۔
یہی تخلیقی فرق وہ اصل سبب ہے جس کی بنا پر عورت کو زندگی کے شعبوں میں مرد کے برابر درجہ نہ مل سکا۔ عورت کے بارے میں دینی نقطۂ نظر کو جھوٹے فلسفوں نے مجتبیٰ بنایا تھا۔ سائنس کے حقائق نے دوبارہ اس کو ثابت شدہ بنا دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ جب یہ ثابت ہو گیا کہ عورت اور مرد کے بارے میں دینی نقطۂ نظر ہی صحیح نقطۂ نظر ہے، اس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ آج بھی لوگ اسی پرانی بات کو دہراتے ہیں؟
آج بھی اسلام پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس نے عورت کو کمتر درجہ دیا ہے۔ ہندوستان میں حکومت کے خرچ پر یہ اسکیم شروع کی گئی ہے کہ مجاہدینِ آزادی، یعنی Freedom Fighters، کی آوازوں کو ریکارڈ کر لیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں ان کے خیالات کو ان کی اپنی آواز میں سن سکیں۔ اس سلسلے میں مسٹر ایس ایم جوشی کے انٹرویو کا خلاصہ اخبارات میں آیا ہے، جن کی عمر ریکارڈنگ کے وقت 72 سال ہو چکی تھی۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں جو باتیں کہیں، ان میں سے ایک اخبار "ٹائمز آف انڈیا" میں 6 اپریل 1976 کے الفاظ میں یہ تھی: "The Shariat of the Muslims and the Manusmriti of the Hindus followed by both the communities for centuries, were equally and socially reactionary.
" مسلمانوں کی شریعت اور ہندوؤں کی منوسمری، جس کو دونوں فرقے صدیوں سے اختیار کیے ہوئے ہیں، یکساں طور پر اور سماجی طور پر رجعت پسند ہیں۔ اس طرح کی باتیں جو آج بھی بڑے پیمانے پر کہی جا رہی ہیں، ان پر جھنجھلانے کے بجائے ہمیں اس کے ان کے سبب پر غور کرنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کی وجہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ عورت اور مرد کے فرق کے بارے میں جدید نظریہ ابھی تک صرف علمی تحقیق ہے۔ وہ ابھی تک فکری انقلاب نہ بن سکا۔
اس دنیا کا قاعدہ ہے کہ کوئی نقطۂ نظر، خواہ وہ کتنا ہی مدلل ہو، وہ لوگوں کے درمیان اس وقت تک عمومی قبولیت حاصل نہیں کرتا جب تک اس کو فکری انقلاب کا درجہ نہ دے دیا جائے۔ پچھلے زمانے میں جو انبیاء آئے، ان میں سے ہر نبی توحید کو دلائل کے اعتبار سے ثابت شدہ بناتا رہا۔ اس کے باوجود یہ ممکن نہیں ہوا کہ شرک کا خاتمہ ہو اور توحید کو عمومی غلبہ حاصل ہو جائے۔ یہ دوسرا کام صرف اس وقت ہوا جب کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب اٹھے اور اللہ کی خصوصی مدد کے ذریعے توحید کی حقانیت کو فکری انقلاب کے درجے تک پہنچا دیا۔
اسی طرح موجودہ زمانے میں بھی ایک فکری انقلاب درکار ہے۔ علمِ جدید نے اس کے حق میں استدلالی بنیاد فراہم کر دی ہے۔ اب ضرورت یہ ہے کہ اہلِ دین اس مہم کو آگے بڑھائیں اور اس کے حق میں ضروری جدوجہد کر کے اس کو عالمی فکری انقلاب کے درجے تک پہنچا دیں۔ اگلی سطروں کا مقصد یہی ہے کہ لوگوں کو اس تاریخی جدوجہد کے لیے اٹھنے پر آمادہ کیا جا سکے۔
وحید الدین، 19 ستمبر 1976، کتاب "خاتونِ اسلام"، صفحہ نمبر 7۔