Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Khandaani zindagi
Khandaani zindagi

ایک مشاہدہ

Urdu · 3 min

امریکہ کے ایک سفر میں مجھے ایک امریکی مسلمان کے گھر میں چند دن قیام کا موقع ملا۔ مذکورہ مسلمان کا نکاح ایک ایسی خاتون سے ہوا جو پاکستان میں پیدا ہوئیں، ان کی پوری پرورش پاکستان میں ہوئی۔ شادی کے بعد وہ امریکہ چلی آئیں اور وہاں اپنے شوہر کے ساتھ رہنے لگیں۔ ایک دن ایسا ہوا کہ مرد اپنی جاب پر باہر چلے گئے۔

اس وقت خاتون مجھ سے ملنے کے لیے آئیں۔ بظاہر وہ مجھ سے نصیحت لینا چاہتی تھیں، لیکن میرے کمرے میں آتے ہی وہ رونے لگیں۔ وہ کچھ بول نہ سکیں اور اسی حال میں واپس چلی گئیں۔ اگلے دن انہوں نے بتایا کہ میرے شوہر مجھ سے خوش نہیں رہتے۔

میں سوچتی ہوں کہ میں یہاں سے واپس ہو کر اپنے ماں باپ کے پاس چلی جاؤں۔ میں نے اس مسئلے پر کافی غور کیا اور پورے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کی۔ آخرکار میں نے دریافت کیا کہ اس معاملے کا اصل سبب عورت کے ماں باپ کی نادانی ہے۔ معاملہ یہ تھا کہ خاتون کے ماں باپ نے پاکستان میں ان کو لاڈ پیار کے ساتھ رکھا۔

انہیں کبھی گھر کا کام کرنے نہیں دیا۔ گھر کا کام کرنا یا گھر سنبھالنا، اس کی کوئی تربیت ان کو اپنے میکے میں نہیں ملی۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ ان کے والدین نے ان کا نکاح امریکہ میں مقیم ایک مسلمان کے ساتھ کر دیا۔ اس مسلمان میں اخلاقی اعتبار سے کوئی برائی نہ تھی، لیکن ایک عملی پہلو ان کی زندگی میں ناخوشگواری کا سبب بن گیا۔

انڈیا اور پاکستان میں گھر کے کام کے لیے آسانی کے ساتھ ملازم مل جاتے ہیں، اس لیے یہاں کے والدین ایسا کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے گھر کا سارا کام ملازم سے کروائیں اور اپنی بیٹی کو کوئی کام نہ کرنے دیں۔ لیکن امریکہ کی زندگی اس سے بالکل مختلف ہے۔ امریکہ میں گھریلو ملازم نہیں ملتے، چنانچہ یہاں کی خواتین کو گھر کا تمام کام خود کرنا پڑتا ہے۔ دونوں ملک کا یہی فرق مذکورہ خاتون کے لیے مسئلہ بن گیا۔

ان کے ماں باپ نے ان کو گھر کا کام کرنے کا عادی نہیں بنایا تھا، جبکہ امریکہ میں وہ مجبور تھیں کہ گھر کا سارا کام خود کریں۔ والدین کی اسی نادانی نے مذکورہ خاتون کی زندگی کو ان کے لیے ایک مصیبت بنا دیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.