Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Khandaani zindagi
Khandaani zindagi

میکے اور سسرال کا فرق

Urdu · 3 min

ایک لڑکی جب اپنے میکے میں ہوتی ہے تو وہ اُن لوگوں کے درمیان ہوتی ہے جن سے اُس کا خونی تعلق، یعنی بلڈ ریلیشن شپ ہے۔ اس خونی تعلق کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ میکے میں اُس کو ایک طرفہ محبت کے ماحول میں جینا پڑتا ہے۔ میکے میں لڑکی کے لیے یہ ماحول ہوتا ہے کہ تم کچھ نہ کرو تب بھی تم کو ہر چیز ملتی رہے گی۔ سسرال کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔

سسرال میں لڑکی کو غیر خونی رشتے داروں کے درمیان رہنا پڑتا ہے۔ میکے کا کلچر اگر دیے بغیر پانے کے اصول پر قائم تھا، تو سسرال کا کلچر یہ ہوتا ہے کہ دو گے تو پاؤ گے؛ اگر نہیں دیا تو تم کو بھی کچھ ملنے والا نہیں۔ لڑکیاں عام طور پر میکے اور سسرال کے اس فرق کو نہیں سمجھتیں، چنانچہ وہ ہمیشہ ایک غیر حقیقی احساس میں جیتی رہتیں۔ میکے کو اچھا سمجھنا اور سسرال کو اُس کے مقابلے میں برا سمجھنا، یہ مزاج خواتین میں عام ہے۔

اس کا نقصان سب سے زیادہ خود خواتین کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اپنے اس غیر حقیقی مزاج کی بنا پر وہ اپنے شوہر سے اور اپنے سسرال والوں سے گہرا تعلق قائم نہیں کر پاتیں۔ خالق نے ہر عورت اور مرد کو مخصوص صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اس دنیا میں ہر عورت اور مرد کے لیے کوئی بڑا رول مقدر ہے۔

اس رول کے لیے ضروری ہے کہ عورت اپنے نئے رشتے داروں کے ساتھ بھرپور تعلق قائم کر کے رہے۔ مگر اکثر عورتیں اپنے سسرال والوں کے ساتھ یہ تعلق قائم نہیں کر پاتیں، اور نتیجتاً وہ رول ادا نہیں کر پاتیں جو اُن کے لیے مقدر تھا۔ اس دنیا میں کسی بڑے رول کے لیے اجتماعی کوشش ضروری ہے۔ گھر اسی قسم کا ایک اجتماعی ادارہ ہے۔

ہر گھر اپنی اجتماعی کوشش سے ایک بڑا کام کر سکتا ہے، لیکن یہ بڑا کام اُسی گھر کے لوگ انجام دیں گے جو اپنے گھر کو حقیقی معنوں میں ایک اجتماعی ادارہ بنا دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی عورت کے لیے اُس کی سسرال بھی حقیقت یہ ہے کہ کسی عورت کے لیے اُس کا سسرال بھی اُسی طرح اُس کا اپنا گھر ہے، جس طرح اُس کا میکہ اُس کے لیے اُس کا اپنا گھر تھا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.