Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Khandaani zindagi
Khandaani zindagi

باہمی اعتماد

Urdu · 3 min

دو آدمی مل کر کام کریں تو کامیاب کارکردگی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں کے درمیان کامل اعتماد ہو۔ دونوں ایک دوسرے کے اوپر ہر اعتبار سے بھروسہ رکھتے ہوں۔ دونوں کے درمیان اجنبیت کی کوئی دیوار باقی نہ رہے۔

باہمی اعتماد کا یہ اصول شوہر اور بیوی کے درمیان انتہائی حد تک ضروری ہے۔ اس کے بغیر کوئی گھر اچھا گھر نہیں بن سکتا۔ شوہر اور بیوی کے درمیان کیوں ایسا ہوتا ہے کہ عام طور پر مطلوب قسم کا باہمی اعتماد پیدا نہیں ہوتا؟ دونوں کے درمیان اجنبیت کی ایک غیر محسوس دیوار مسلسل طور پر باقی رہتی ہے۔

اس نامطلوب صورتحال کی ذمہ داری عورت اور مرد دونوں کے اوپر یکساں طور پر عائد ہوتی ہے۔ عورت کی غلطی یہ ہے کہ وہ نکاح کے بعد اپنے ذہن کو نئے حالات کے مطابق نہیں بنا پاتی۔ وہ بدستور اپنے میکے کو اپنا گھر سمجھتی رہتی ہے۔ اس کا اظہار بار بار اس کے رویّے سے ہوتا رہتا ہے۔

مثلاً جب وہ اپنے میکے کا ذکر کرے گی تو وہ اس طرح کہے گی کہ "میرے گھر میں ایسا تھا" یا "میرے گھر میں ایسا ہوتا ہے"۔ یہ چیز فطری طور پر مرد کو ناگوار ہوتی ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر محسوس کرتا ہے کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان ایک قسم کی غیریت موجود ہے جو کسی طرح ختم نہیں ہوتی۔ دوسری طرف مرد کے اندر عام طور پر ایک کمزوری ہوتی ہے۔

وہ مطلوب نوعیت کے باہمی اعتماد میں مسلسل طور پر رکاوٹ بنی رہتی ہے۔ وہ یہ کہ ہر مرد کے ذہن میں ایک مفروضہ عورت کا تصور بسا ہوا ہوتا ہے۔ یہ مفروضہ تصور مرد کے ذہن میں مسلسل طور پر بسا ہوا ہوتا ہے۔ اس بنا پر وہ اپنی موجود بیوی کے ساتھ مطلوب قسم کا باہمی اعتماد قائم نہیں کر پاتا۔

شوہر اور بیوی کے درمیان باہمی اعتماد قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں اپنی اصلاح کریں۔ دونوں اپنے آپ کو مذکورہ قسم کے واہیما یعنی ابسیشن سے باہر نکالیں۔ دونوں یہ کریں کہ وہ خیالی دنیا میں جینے کے بجائے عملی حالات کے مطابق اپنا ذہن بنائیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو دونوں کے درمیان اپنے آپ باہمی اعتماد قائم ہو جائے گا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.