Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Khandaani zindagi
Khandaani zindagi

Conditioning ko todna.

Urdu · 3 min

کنڈیشننگ کو توڑنا: شادی کے بعد جب ایک عورت اور ایک مرد باہم اکٹھا ہوتے ہیں، تو یہ کوئی سادہ بات نہیں ہوتی؛ یہ دو مختلف، یعنی different، شخصیتوں کا ایک ساتھ جمع ہونا ہے۔ ان میں سے ہر ایک دوسرے سے الگ ہوتا ہے۔ ایک لفظ میں: عورت Ms. Condition ہوتی ہے اور مرد Mr.

Condition۔ یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ کوئی عورت یا مرد جب پیدا ہوتے ہیں تو اپنے اپنے ماحول کے لحاظ سے دونوں کی کنڈیشننگ شروع ہو جاتی ہے۔ گھر کا ماحول اور گھر کے باہر کا ماحول، دونوں کے اثر سے ہر ایک دھیرے دھیرے ایک متاثر ذہن، یعنی کنڈیشنڈ مائنڈ، بن جاتا ہے۔ ہر ایک کے اوپر اس کا یہ متاثر ذہن اتنا زیادہ چھا جاتا ہے کہ ہر ایک اپنے خول میں جینے لگتا ہے۔

ہر ایک اپنے کو درست سمجھنے لگتا ہے، اور دوسرے کو نادرست۔ اسی تاثر پذیری کو کنڈیشننگ کہا جاتا ہے۔ کنڈیشننگ کا یہ معاملہ ہر ایک کے ساتھ بلا استثنا پیش آتا ہے۔ ایسی حالت میں، جب ایک عورت اور ایک مرد باہم اکٹھا ہوتے ہیں، تو دونوں ایک دوسرے کے لیے مسئلہ بن جاتے ہیں۔

عورت اپنی کنڈیشننگ کی وجہ سے ایک چیز کو ہرے رنگ میں دیکھ رہی ہوتی ہے، اور مرد کو وہی چیز اپنی کنڈیشننگ کی وجہ سے نیلے رنگ میں دکھائی دیتی ہے۔ اس فرق کی بنا پر دونوں میں بار بار اختلافات پیدا ہوتے ہیں، جو بڑھ کر شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس مسئلے کا واحد حل ڈی کنڈیشننگ ہے۔ اور ڈی کنڈیشننگ کا واحد طریقہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کھلے ذہن سے ڈسکشن کریں۔

دونوں ایک دوسرے کے ساتھ برابر انٹلیکچول ایکسچینج کریں۔ اسی کے ساتھ، دونوں کے اندر اعتراف کا مزاج لازمی طور پر ضروری ہے۔ یعنی حقیقت کھل جانے کے بعد فوراً اس کو مان لینا، اور فوراً یہ کہہ دینا کہ اس معاملے میں میں غلطی پر تھا، I was wrong۔ اپنی غلطی کو کھلے طور پر مان لینا، یہی اپنی ڈی کنڈیشننگ کا واحد کامیاب طریقہ ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.