اس دیواجی رشتے کے بارے میں ایک جامع نصیحت حدیثِ رسول میں آئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا يَفْرُقُ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ» صحیح مسلم، کتاب الرضا، باب الوصیت بالنساء۔ یعنی کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے بغض نہ رکھے۔ اگر عورت کی ایک خصلت اس کو ناپسند ہو تو اس کے اندر کوئی دوسری خصلت موجود ہوگی جو اس کو پسند آئے۔
اصل یہ ہے کہ کسی عورت یا مرد کے اندر ساری اچھی صفات پائی نہیں جاتیں۔ یہ فطرت کا نظام ہے کہ کسی کے اندر ایک صفت موجود ہوتی ہے تو اس کے اندر دوسری صفت موجود نہیں ہوتی۔ مثلاً عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ایک عورت یا مرد اگر ظاہری دلکشی کے اعتبار سے زیادہ ہوں تو وہ داخلی خصوصیات کے اعتبار سے کم ہوں گے۔ اور اگر کسی میں داخلی خصوصیات زیادہ ہوں تو اس کے اندر خارجی صفات کم پائی جائیں گی۔
انسان کا یہ مزاج ہے کہ وہ کسی کے منفی پہلو کو زیادہ دیکھتا ہے، اس کے مثبت پہلو اکثر اس کی نگاہ سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک تباہ کن مزاج ہے۔ اسی مزاج کی وجہ سے رشتوں میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بجائے اگر ایسا کیا جائے کہ مثبت پہلو پر دھیان دیا جائے اور منفی پہلو کو نظر انداز کر دیا جائے، تو تعلقات خود بخود خوشگوار ہو جائیں گے۔
ایسا کرنے کی صورت میں ہر مرد کو اس کی بیوی بہترین رفیقِ حیات دکھائی دے گی، اور ہر عورت کو اس کا شوہر بہترین رفیقِ زندگی نظر آئے گا۔ خدا نے کسی عورت یا مرد کو کمتر پیدا نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد اپنے آپ میں بااعتبارِ تخلیق کامل ہوتے ہیں۔ یہ ہمارے اپنے فہم کا قصور ہے کہ ہم کسی کو کم اور کسی کو زیادہ سمجھ لیتے ہیں۔
عورت اور مرد اگر اس حقیقت کو جان لیں تو ان کی زندگی شکر کی زندگی بن جائے۔ شکایت یا محرومی کا احساس ان کے اندر باقی نہ رہے، اور پھر وہ زیادہ بہتر طور پر زندگی کی تعمیر کے قابل ہو جائیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.