Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Khandaani zindagi
Khandaani zindagi

عورت معاونِ حیات

Urdu · 4 min

قرآن کی سورہ نمبر 2 میں عورت اور مرد کے تعلق کے بارے میں ایک آیت آئی ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: "تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں"۔ پس اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ، اور اپنے لیے آگے بھیجو۔

اور اللہ سے ڈرو، اور جان لو کہ تمہیں ضرور اس سے ملنا ہے۔ اور ایمان والوں کو خوشخبری دے دو۔ And do good beforehand for yourselves. سورہ نمبر 2، آیت 223۔

اس آیت میں "اپنے لیے آگے بھیجو" یعنی "قَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ" کا لفظ بنیادی لفظ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی مرکزی لفظ سے پوری آیت کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔ آیت کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ تمہارا اصل نشانہ یہ ہونا چاہیے کہ تم وہ کام کرو جو مستقبل میں تمہارے لیے مفید بننے والا ہو۔ یعنی "قَدِّمُوا مَا يَنْفَعُكُمْ غَدًا"۔

یعنی آدمی موجودہ امتحان کی دنیا میں اپنے آپ کو اس طرح تیار کرے کہ وہ آگے آنے والی آخرت کی دنیا میں کامیاب زندگی حاصل کر سکے۔ یہ کسی انسان کا اصل مقصدِ حیات ہے۔ آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اسی مقصدِ حیات کی نسبت سے عورت کے معاملے کو سمجھو۔ عورت کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ایک معاونِ حیات کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔

جس طرح کھیت کسی انسان کے لیے اس کے مقصد کی نسبت سے معاونِ حیات کا درجہ رکھتا ہے۔ جس زمانے میں یہ قرآنی آیت اتری، اس زمانے میں مدینہ اور بقیہ دنیا میں یہ بحث چھڑی ہوئی تھی کہ عورت کا درجہ انسانی زندگی میں کیا ہے۔ اس معاملے میں لوگ اپنے سابق ذہنی نقشے کی بنا پر صرف دو باتیں جانتے تھے: صنفی تسکین اور بقائے نسل۔ قرآن میں بتایا گیا کہ اس قسم کے پہلوؤں سے زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ عورت تمہارے لیے اپنی زندگی کی تعمیر میں ایک معاون کی حیثیت رکھتی ہے۔

اس لیے تم کو چاہیے کہ تم اپنے اس فطری معاون کا بھرپور استعمال کرو، اور اس کو اپنی تکمیلِ حیات کا ذریعہ بناؤ۔ عورت کا اس سے کم کوئی تصور— عورت کا کم تر تصور ہے۔ نکاح کی صورت میں عورت اور مرد کی یکجائی اس لیے ہوتی ہے تاکہ دونوں وسیع تر انسانیت کی تعمیر میں اپنا مشترک رول ادا کریں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.