← Islami JihaadIslami Jihaad
جہادِ اصغر، جہادِ اکبر
Urdu · 7 min
ایک روایت کے مطابق پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوے سے واپس ہو کر مدینہ پہنچے تو آپ نے فرمایا: "رجعنا من الجهاد الأصغر إلى الجهاد الأكبر" ۔ یعنی ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہیں۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ ہم وقتی جہاد سے مستقل جہاد کی طرف واپس آئے ہیں۔
We have came back from temporary jihad to the permanent jihad. غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وقتی جہاد سے مراد دفاعی جہاد، یعنی ڈیفنسو جہاد ہے، جو کبھی کبھی پیش آتا ہے، اور مستقل جہاد سے مراد سپرچوئل جہاد ہے، جو ہر آدمی کی زندگی میں مستقل طور پر جاری رہتا ہے۔ اس بات کو ایک اور حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: "جاهدوا أهواءكم كما تجاهدون أعداءكم" ۔ یعنی اپنی خواہشات سے جہاد کرو جس طرح تم اپنے دشمن سے جہاد کرتے ہو۔
دشمن کے خلاف جہاد انتہائی وقتی چیز ہے، جو اس وقت پیش آتا ہے جب کسی نے باقاعدہ طور پر ریاست کے اوپر حملہ کر دیا ہو۔ یہ دفاعی جہاد ہے، اور اس میں صرف کچھ تربیت یافتہ افراد حصہ لیتے ہیں، نہ کہ ساری مسلم کمیونٹی۔ اس کے برعکس، اپنے نفس کے خلاف جہاد ایک انفرادی نوعیت کی چیز ہے، اور وہ ہر مومن کی زندگی میں جاری رہتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے، اس لیے اس دنیا میں ہر عمل کو کرنے کے لیے اپنے نفس کے ساتھ مقابلہ پیش آتا ہے۔
اپنے نفس سے کامیاب مقابلے کے بغیر کوئی آدمی جہادِ نفس کے کام کو انجام نہیں دے سکتا۔ مثال کے طور پر، یہ ایک ثواب کا کام ہے کہ آپ جب کسی شخص سے ملیں تو "السلام علیکم" یعنی تمہارے اوپر سلامتی ہو، کہیں۔ یہ کلمہ اتنا بڑا عمل ہے کہ اس کے کہنے پر حدیث میں جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں جب آدمی لوگوں کے ساتھ رہتا ہے تو بار بار اس کو دوسروں کی طرف سے تلخ تجربات پیش آتے ہیں۔
اس بنا پر ہر آدمی کے دل میں دوسروں کے خلاف شکایت کے جذبات موجود رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں حقیقی معنوں میں "السلام علیکم" صرف وہ شخص کہہ سکتا ہے جو اس سے پہلے اپنے دل کو ہر قسم کے منفی جذبات سے پاک کرے، اور اس کے بجائے اپنے دل کو لوگوں کے لیے خیرخواہی کے جذبات سے بھر دے۔ غور کیجیے تو یہ کام اتنا مشکل ہے کہ اس کے لیے وہی زبردست کوشش کرنی پڑے گی جس کو جہاد کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ "الحمد لله تملأ الميزان" ۔
یعنی الحمدللہ کا کلمہ میزان کو بھر دیتا ہے۔ غور کیجیے تو یہ بھی کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سچا "الحمدللہ" کہنے کے لیے بہت بڑا ذہنی عمل درکار ہے۔ "الحمدللہ" کہنا خدا کی نعمتوں پر شکر کا اظہار کرنا ہے۔
خدا کی یہ نعمتیں آدمی کو مسلسل طور پر لاتعداد صورتوں میں ملتی رہتی ہیں۔ یہ نعمتیں ہر آدمی کو اپنے آپ ملتی ہیں، چنانچہ آدمی ان کا عادی ہو جاتا ہے، اور عادی ہونے کی بنا پر شعوری طور پر ان کو بطور نعمت محسوس نہیں ہوتا۔ یہ نعمتیں ہر آدمی کو اپنے آپ ملتی ہیں، چنانچہ آدمی ان کا عادی ہو جاتا ہے، اور عادی ہونے کی بنا پر شعوری طور پر ان کو بطور نعمت محسوس نہیں کرتا۔ ایسی حالت میں "الحمدللہ" کہنے کے لیے ایک فکری جہاد کرنا پڑتا ہے۔
اس کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ اپنی تفکیری قوتوں کو عمل میں لا کر، غیر شعوری کو اپنے شعور میں لائے، اپنے جذبات کی نئی رخ بندی کرے۔ وہ اپنی فکری قوتوں کو بیدار کرنے کے لیے مجاہد بن جائے۔ اس کے بعد ہی اس کی زبان سے وہ کلمہ حمد نکلتا ہے جو میزان کو بھر دینے والا کلمہ ہے۔ آدمی کے اندر طرح طرح کی خواہشیں ہیں: حرص، علو پسندی، دوسرے کو حقیر سمجھنا، بے صبری، غصہ اور انتقام وغیرہ۔
آدمی ہر وقت ان منفی جذبات کے تابع رہتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ کچھ چیزوں کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے، مثلاً دولت، شہرت اور اولاد وغیرہ۔ آدمی کی یہ بے پناہ خواہش ہوتی ہے کہ یہ تمام چیزیں اس کو بھرپور طور پر حاصل ہو جائیں۔ نفرت اور محبت کے یہ مختلف جذبات آدمی کے اوپر ہر وقت چھائے رہتے ہیں۔
وہ جو کچھ سوچتا ہے، انہی جذبات کے ساتھ۔ نفرت اور محبت کے یہ مختلف جذبات آدمی کے اوپر ہر وقت چھائے رہتے ہیں۔ وہ جو کچھ سوچتا ہے، انہی جذبات سے مغلوب ہو کر سوچتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر انہی جذبات کے تحت اپنی زندگی کا نقشہ بناتا ہے۔
ایسی حالت میں یہ بلاشبہ ایک جہادی عمل ہے کہ آدمی خدا کو مسلسل طور پر اپنا مرکز توجہ بنائے۔ وہ صراط مستقیم سے اپنے آپ کو ہٹنے نہ دے۔ یہی وہ پرمشقت عمل ہے جس کو حدیث میں جہادِ نفس کہا گیا ہے۔