تغییر منکر۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "من رأى منكم منكراً فليغيّره بيديه" صحیح البخاری۔ یعنی تم میں سے جو شخص منکر کو دیکھے تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے۔ اب ایک اور حدیث دیکھیے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ قریش نے جب کعبے کی دوبارہ تعمیر کی تو انہوں نے اس کو ابراہیمی بنیاد سے گھٹا کر بنایا۔
حضرت عائشہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول، آپ اس کو ابراہیمی بنیاد کی طرف کیوں نہیں لوٹا دیتے؟ آپ نے فرمایا کہ اگر قریش ابھی نئے نئے مسلمان نہ ہوئے ہوتے تو میں ایسا کر دیتا فتح الباری جلد 3، صفحہ 513۔ ان دونوں حدیثوں کا تقابلی مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تغییر منکر کا حکم مطلق معنوں میں نہیں ہے، بلکہ وہ ایک مقید حکم ہے۔ اگر وہ کوئی مطلق حکم ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور ایسا کرتے کہ مشرکین مکہ نے کعبے کی تعمیر ثانی میں جو تبدیلی کی تھی، اس کو ختم کر کے دوبارہ اس کو حضرت ابراہیم کی ابتدائی اثاث پر کھڑا کرتے۔
اس تقابلی مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تغییر منکر میں صرف استطاعت ہی کی شرط نہیں ہے، بلکہ حکمت کی شرط بھی ہے۔ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے حکمران ہو چکے تھے۔ آپ کو یہ استطاعت حاصل ہو چکی تھی کہ آپ کعبے کو ڈھا کر اسے ابراہیمی بنیاد پر تعمیر کر دیں۔ مگر آپ نے استطاعت کے باوجود ایسا نہیں کیا، کیونکہ حدیث کے الفاظ میں ایسا کرنا حکمت کے خلاف ہوتا۔
تغییر منکر کے حکم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آدمی جب کسی منکر کو دیکھے تو فوراً اس کے خلاف اقدام شروع کر دے۔ اجتماعی زندگی میں کوئی اقدام صرف برائی کو دیکھ کر نہیں کیا جاتا، بلکہ حالات کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ مومن پر لازم ہے کہ جب وہ کسی منکر کو دیکھے تو اس کے خلاف اقدام سے پہلے یہ سوچے کہ میرے اندر اس کی حقیقی استطاعت ہے یا نہیں۔ اور اگر بظاہر استطاعت ہو تب بھی ایسا کرنا حکمت کے مطابق ہے یا نہیں۔
استطاعت اور حکمت کی دو گنا شرط کا لحاظ کیے بغیر تغییر منکر کے لیے اٹھنا فساد ہے، نہ کہ اسلامی حکم کی تعمیل۔ اسلامک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 227۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.